سینیارٹی اور میرٹ کا تنازع، آزاد کشمیر پولیس میں اعلیٰ سطحی اختلافات

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر پولیس میں انسپکٹر جنرل کے عہدے پر نسبتاً جونیئر افسر کی تعیناتی کے بعد ادارے کے اندر سینیارٹی اور میرٹ سے متعلق سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ 6 سینیئر ڈپٹی انسپکٹر جنرلز نے باضابطہ طور پر وزیراعظم سے رجوع کر لیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے گزشتہ اتوار کو پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے گریڈ 20 کے افسر ریٹائرڈ کیپٹن لیاقت علی ملک کو آزاد جموں و کشمیر کا آئی جی پی تعینات کیا گیا تھا، وہ 33ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ارکان اسمبلی کے پاس خلاف ضابطہ گاڑیوں کا معاملہ، محتسب آزاد کشمیر نے واپس لینے کا حکم دیدیا

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، لیاقت علی ملک کی تقرری 1949 کے معاہدہ کراچی کی شق ہشتم کے تحت عمل میں آئی، جنہوں نے منگل کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد جمعرات کو وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے ملاقات بھی کی۔

سینیئرافسران کے تحفظات

آزاد کشمیر پولیس کے 6 سینیئر ڈی آئی جیز نے وزیراعظم کو دی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی سروس مدت زیادہ، تعلیمی اسناد اعلیٰ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر تجربہ وسیع ہے۔

ان کے مطابق نسبتاً جونیئر افسر کو اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کرنا سروس روایات سے انحراف ہے جس سے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور کمانڈ اسٹرکچر متاثر ہو سکتا ہے۔

افسران نے مؤقف اپنایا کہ اس فیصلے سے میرٹ، سروس میں انصاف اور ادارے کے مورال پر سوالات اٹھے ہیں، اس لیے پیشہ ورانہ معیار اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اس پر نظرثانی کی جائے۔

1949 کے معاہدہ کراچی کی شق ہشتم کیا کہتی ہے؟

شق ہشتم کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آزاد کشمیر حکومت کو دیے گئے افسران کی خدمات غیر رسمی طور پر حکومتِ آزاد کشمیر کے سپرد کی جاتی ہیں، جس کے بعد آزاد کشمیر حکومت انہیں سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے باضابطہ تعینات کرتی ہے۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 1949 کے انتظام کے تحت اس وقت وفاق کو آئی جی پی تعینات کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، جب مقامی طور پر موزوں افسران دستیاب نہیں تھے۔

تاہم 1980 کی دہائی کے اواخر میں آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) کی براہ راست بھرتیاں شروع ہوئیں، جنہوں نے وفاقی افسران کے ساتھ کامن اور اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام مکمل کیے۔

سینیارٹی کا معاملہ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 33ویں سی ٹی پی میں ریٹائرڈ کیپٹن لیاقت علی ملک کے ساتھ شامل آزاد کشمیر پولیس کے 6 افسران میں سے ایک ڈی آئی جی جبکہ 5 سینیئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اسی طرح 23ویں سی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے 5 افسران میں ایک ایڈیشنل آئی جی (گریڈ 21) اور 4 ڈی آئی جیز (ٹائم اسکیل گریڈ 21) ہیں، جبکہ 30ویں سی ٹی پی کے 4 افسران بھی بطور ڈی آئی جی تعینات ہیں۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

رپورٹ کے مطابق 6 ڈی آئی جیز نے بدھ کے روز وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے ملاقات میں مؤقف اختیار کیا کہ سینiئر افسران کو نظر انداز کرنا نہ صرف سروس فیئرنیس کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی مختلف ذرائع سے مطالبہ کیا کہ تعیناتی پر نظرثانی کرتے ہوئے کسی موزوں اور سینiئر پی ایس پی افسر تعینات کیا جائے, ذرائع کے مطابق بعض افسران نے احتجاجاً دفاتر میں حاضری سے بھی گریز کیا۔

چیف سیکریٹری کا مؤقف

دوسری جانب چیف سیکریٹری خوشحال خان نے وضاحت کی کہ صوبائی پولیس سروسز کے برعکس آزاد کشمیر پولیس سروس کی سینیارٹی اور کیڈر اسٹرکچر پی ایس پی کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔

ان کے مطابق صوبائی پولیس افسران گریڈ 19 میں ترقی کے بعد پی ایس پی میں ضم ہو جاتے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر پولیس افسران سروس کی اپنی علیحدہ درجہ بندی میں ترقی پاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر، پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا، سردار تبارک علی مسلم لیگ (ن) میں شامل

انہوں نے مزید کہا کہ کامن اور اسپیشلائزڈ ٹریننگ کا مقصد صلاحیتوں میں اضافہ اور پیشہ ورانہ تربیت ہے، نہ کہ سینیارٹی کا تعین۔

چیف سیکریٹری نے امید ظاہر کی کہ آزاد کشمیر پولیس کے افسران نئے آئی جی پی کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اسی محنت اور دیانت سے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے نئے آئی جی پی کو شاندار سروس ریکارڈ کا حامل افسر قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟