دریائے سندھ اور کابل کے کناروں پر سونے کی کان کنی پر عائد پابندی میں توسیع

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی مختلف ضلعی حدود میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلیسر سونے کی کان کنی پر پابندی آئندہ 2 ماہ کے لیے بڑھا دی ہے۔

ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ایجنسیوں سے موصولہ قابل بھروسہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی پلیسر سونا نکالنے کی کوششوں کے قوی امکانات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، خیبر پختونخوا مزید تجربہ گاہ نہیں بنے گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ معدنیات کی ترقی کے سیکریٹری نے سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک اور ان کے ملحقہ علاقوں میں دسمبر میں عائد کردہ پابندی کو عوامی مفاد میں بڑھانے کی درخواست کی تھی۔

ڈیپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ اگر ایسی غیر مجاز اور غیر منظم کوششوں کو جاری رہنے دیا گیا تو اس سے دریا کے کناروں کی شدید خرابی، پانی کے وسائل کی آلودگی، مقامی ماحول اور منظرنامے کی تباہی اور عوامی صحت و سلامتی کو براہِ راست خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان کوششوں سے قانون و انتظام کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، جیسے مقامی گروہوں کے درمیان دشمنیاں، مواد کی غیر قانونی نقل و حمل، کان کنی کے آلات کے لیے ایندھن کی سمگلنگ اور امن و امان کے لیے دیگر خطرناک سرگرمیاں۔

مزید پڑھیں: جاپان کا خیبر پختونخوا میں تباہی سے بچاؤ کے لیے تعلیمی منصوبہ، 427 ملین ین گرانٹ کا معاہدہ

ڈیپارٹمنٹ نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث بعض عناصر منظم انداز میں کام کرتے ہیں، ان کے پاس قابلِ ذکر مالی وسائل ہیں اور وہ انتظامی و پولیس افسران کی کارروائیوں کی مزاحمت کر سکتے ہیں، جس سے عوام اور اہلکاروں کی حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

صوبائی کابینہ نے معدنیات کے محکمے کو ہدایت دی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے مربوط کارروائی کرے اور جہاں ضروری ہو اضافی فورسز تعینات کرے، تاکہ امن و امان کے لیے سیکشن 144 نافذ کیا جا سکے اور مقامی کمیونٹی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا

ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سیکشن 144 کے تحت، دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک کے اضلاع اور ملحقہ متاثرہ علاقوں میں پلیسر سونا نکالنے اور کان کنی کی تمام سرگرمیوں پر پابندی آئندہ 60 دن کے لیے نافذ کی جاتی ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس اس حکم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرنے کے مجاز ہیں، بشمول آلات، گاڑیوں، مشینری یا کسی بھی مواد کی ضبطی، اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو پاکستان کے فوجداری قانون کی دفعہ 188 کے تحت سزا دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟