ایران اور امریکا میں پابندیوں کے خاتمے پر اختلاف برقرار، مارچ میں نئے مذاکرات کا امکان

اتوار 22 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام اور اقتصادی پابندیوں کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں، تاہم دونوں ممالک نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے طریقہ کار اور ٹائم لائن پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے، لیکن مارچ کے اوائل میں مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے، جس سے سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق

ایران اور امریکا نے رواں ماہ اپنے دیرینہ جوہری تنازع پر بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا تھا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاریوں اور ایران کی سخت بیانات نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور ممکنہ تصادم کے خدشات کو تقویت دی ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق حالیہ مذاکرات سے ظاہر ہوا کہ پابندیوں کے خاتمے کے دائرہ کار اور طریقہ کار پر امریکی تجاویز ایران کے مطالبات سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیشرفت کے لیے ایک ایسا روڈ میپ درکار ہے جو باہمی مفادات اور معقول ٹائم فریم پر مبنی ہو۔

تہران نے امریکا کے ’زیرو افزودگی‘ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش کی تردید کرتا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کے اندر افزودگی کا عمل ممکنہ طور پر ہتھیار سازی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کی 90 فیصد افزودگی سے کچھ کم ہے۔ امریکا ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے۔

ایرانی عہدیدار نے عندیہ دیا کہ تہران اپنے کچھ ذخیرے کو بیرون ملک منتقل کرنے، بلند ترین افزودگی کی سطح کم کرنے یا خطے میں مشترکہ افزودگی کنسورشیم کے قیام جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پرامن جوہری حق کو تسلیم کیا جائے۔ ان کے مطابق عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

ایران کا کہنا ہے کہ سفارتی حل دونوں ممالک کے لیے معاشی فوائد کا باعث بن سکتا ہے اور امریکا کو ایران کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی دیے جا سکتے ہیں، تاہم تہران اپنے قدرتی وسائل پر کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔ صورتحال تاحال نازک ہے، لیکن فریقین نے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ