چین نے ریاستہائے متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد یکطرفہ تجارتی محصولات فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرمپ 1977 کے قانون کے تحت ان محصولات کے نفاذ کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔
مزید پڑھیں: پاک انڈیا جنگ میں 10 طیارے مار گرائے گئے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ
عدالت کے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کے فیصلے نے ٹرمپ کی نمایاں معاشی پالیسی کو بڑا دھچکا پہنچایا، جس کے باعث عالمی تجارتی نظام میں بے یقینی پیدا ہوئی تھی۔ فیصلے کے بعد ٹرمپ نے مختلف قانونی اختیارات کے تحت پہلے 10 فیصد اور پھر 15 فیصد تک نئے عالمی درآمدی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔
چین کی وزارتِ تجارت نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے اثرات کا جامع جائزہ لے رہی ہے اور واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر عائد یکطرفہ محصولات واپس لے۔ بیان میں کہا گیا کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین، یورپی ممالک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت عالمی تجارت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے اور مختلف ممالک اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔














