نیویارک سٹی کو تاریخ کے بدترین برفانی طوفان کا سامنا، اسکول بند، ہزاروں پروازیں منسوخ

پیر 23 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیو یارک سٹی شدید برفانی طوفان کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے۔  تاریخ کے ممکنہ بدترین برفانی طوفان کے پیش نظر اسکول بند کردیے گئے ہیں جبکہ ہزاروں پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ماہرینِ موسمیات نے گرج چمک کے ساتھ آنے والے ’بلاک بسٹر بلیزرڈ‘ کو شہر کی تاریخ کے 10 بدترین سرمائی طوفانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں 28 انچ (تقریباً 70 سینٹی میٹر) تک برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ شہر کے مختلف حصوں میں کم از کم 14 انچ برف متوقع ہے۔

بعض مقامات پر اس سے بھی زیادہ مقدار کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اتوار کی شب بعض اوقات 2 انچ فی گھنٹہ کی رفتار سے برفباری ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس طوفان میں گرج چمک کے ساتھ 2 سے 4 انچ فی گھنٹہ تک برف پڑ سکتی ہے۔ برف کے گیلے اور بھاری ہونے کے باعث صفائی اور آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

گرد و نواح میں بھی شدید اثرات

لان آئی لینڈ ، ٹرائی اسٹیٹ ایریا، ساؤتھ ایسٹ نیو انگلینڈ اور ساؤتھرن نیو جرسی میں شدید برفباری اور حدِ نگاہ کم ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ ہوا کی رفتار 40 سے 60 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے بجلی کی بندش کا خطرہ بھی موجود ہے۔

ٹرانسپورٹ سروس متاثر، پروازیں منسوخ

شہر کی ٹرانسپورٹ سروس شدید متاثر ہوئی ہے۔ سب وے محدود سروس پر چل رہی ہیں جبکہ جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لاگارڈیا ایئرپورٹ اور نیویارک لبرٹی ایئرپورٹ پر سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (ایم ٹی اے) کے مطابق ایکسپریس ٹرینیں بنیادی طور پر لوکل ٹریک پر چلیں گی، راک اویز میں شٹل سروس جبکہ اسٹیٹن آئی لینڈ ریلوے ویک اینڈ شیڈول کے مطابق کام کرے گی۔ بس سروس بھی محدود رہے گی اور فیری سروس جزوی طور پر معطل کی جا سکتی ہے۔

طوفان سے نمٹنے کے لیے 2,200 سے زائد برف صاف کرنے والی مشینیں متحرک کر دی گئی ہیں۔ برف ہٹانے والے کارکنوں کی تعداد بڑھا کر 1,400 کر دی گئی ہے جبکہ اضافی 300 اہلکار رات کے اوقات میں تعینات ہوں گے۔ ٹاؤ ٹرک اور گرنے والے درختوں کو ہٹانے والی ٹیمیں بھی تیار رکھی گئی ہیں۔

تاریخی ریکارڈ کا امکان

یکم دسمبر سے اب تک سنٹرل پارک میں 22.3 انچ برف ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ اگر مزید 28 انچ برف پڑتی ہے تو مجموعی موسمی برفباری 50 انچ سے تجاوز کر سکتی ہے، جو ریکارڈ شدہ نمایاں طوفانوں میں شمار ہوگی۔

ایمرجنسی نافذ، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ رات 9 بجے سے پیر دوپہر 12 بجے تک سڑکیں، ہائی ویز اور پل عام ٹریفک کے لیے بند رہیں گے، جبکہ صرف ہنگامی یا ضروری سفر کی اجازت ہوگی۔

پیر کے روز اسکول بند رہیں گے اور آن لائن کلاسز بھی نہیں ہوں گی۔ شہر بھر میں وارمنگ سینٹرز کھلے رکھے گئے ہیں تاکہ بے گھر اور ضرورت مند افراد شدید سردی سے محفوظ رہ سکیں۔ متبادل پارکنگ کے قواعد عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں تاکہ شہری بغیر جرمانے کے گاڑیاں کھڑی کر سکیں۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بھاری اور گیلی برف صاف کرتے وقت احتیاط کریں، کیونکہ یہ دل کے مریضوں اور کمر کی تکالیف میں مبتلا افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

طوفان کے پیش نظر 11 ریاستوں میں الرٹ جاری کیا گیا ہے اور اندازہ ہے کہ 40 ملین سے زائد افراد اس کے اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، محفوظ اسکول لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کیوں اہم ہیں؟

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو نشان امتیاز ملٹری عطا کردیا

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘