27ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے آئینی تشریح، قانون سازی کے جائزے کا اختیار ختم ہو گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت

پیر 23 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے اختیارات پر فیصلہ سیل ٹیکس کے مقدمے میں تحریر کیا۔

فیصلے کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل قانون اور آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس تھا، تاہم نئی آئینی ترمیم کے تحت یہ اختیار آئینی عدالت کو منتقل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالت اب قانون سازی کی آئینی حیثیت کا جائزہ بھی لے سکتی ہے اور کسی بھی تشریحی مقدمے کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے واضح کیا کہ 27 ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے تشریح اور قانون سازی کے جائزے کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا