پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے خلاف دائر مقدمے پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صوبے کے ہائی ویز اور مختلف اہم راستے بند ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے اس معاملے پر چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا کو طلب کیا، جو کچھ دیر بعد عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے بند کی گئی ہزارہ موٹروے اور کوہالہ روڈ ٹریفک کے لیے بحال
عدالت نے افسران سے پوچھا کہ راستوں کی بندش پر کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں، تاہم ان کے جواب سے عدالت مطمئن نہیں ہوئی اور صوبائی حکومت اور آئی جی پولیس کے رویے پر گہرا افسوس ظاہر کیا۔
عدالت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو واضح ہدایت کی کہ تمام رکاوٹیں فوری طور پر ہٹائی جائیں اور کسی کو بھی راستے بند کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ سی سی پی او پشاور، مردان، ہزارہ ڈویژن، ڈی آئی خان، بنوں اور کوہاٹ سے رپورٹیں طلب کی گئیں، جن میں پولیس نے راستے کھلنے کی تصدیق کی جبکہ وکلا نے بھی اس کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیے: آئی جی اسلام آباد کے احکامات پر پولیس کا بڑے پیمانے پر فلیگ مارچ
عدالت نے ریجنل پولیس افیسرز اور ڈی پی اوز کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی قسم کی راستے بندش کی اجازت نہ دی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات کی تعمیل پر ہی ان درخواستوں کو نمٹایا جاتا ہے۔













