وزیرستان جس کا نام سنتے ہی ذہن میں بلند و بالا پہاڑ، سخت روایات اور جنگ و جدل کی تصویریں ابھرتی ہیں، آج ایک نئی اور خوشگوار تبدیلی کی زد میں ہے۔ یہ تبدیلی کسی سیاسی نعرے یا مسلح جدوجہد کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ ان ننھی بیٹیوں کے حوصلوں کا ثمر ہے جنہوں نے کرکٹ کے بلے، فٹ بال کی کک اور جرگوں میں بلند ہوتی آواز کے ذریعے صدیوں پرانی ‘سخت گیر ذہنیت’ کے بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ کہانی ہے اسماء وزیر، آئینہ وزیر، رضیہ محسود، گل نساء اور راحیلہ کی۔ وہ بیٹیاں جنہوں نے ثابت کیا کہ ٹیلنٹ اور ہمت کسی جغرافیے یا مخصوص صنف کی میراث نہیں ہوتی۔
اسماء وزیر کی وہ کک جس نے جمود توڑ دیا
سال 2022 میں جب جنوبی وزیرستان کے ایک میدان میں فٹ بال کا میچ جاری تھا، ایک تصویر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کی جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ یہ تصویر اسماء وزیر کی تھی، جو پوری قوت سے فٹ بال کو ہٹ مار رہی تھیں۔ اس ایک تصویر نے پشتون معاشرے کے اس طبقے کو ہلا کر رکھ دیا جو عورت کو صرف چار دیواری کا قیدی دیکھنا چاہتا تھا۔

اسماء کی اس تصویر کو پنڈی ایکسپریس’ شعیب اختر نے ٹویٹر پر زبردست الفاظ میں سراہا، لیکن دوسری طرف مقامی سطح پر ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ انتہا پسند اور سخت گیر سوچ رکھنے والوں نے اسے ‘فحاشی’ اور ‘بے راہ روی’ قرار دیا، مگر اسماء نے جھکنے سے انکار کر دیا۔ اس نے ثابت کیا کہ ایک لڑکی کا کھیل اس کی حیا نہیں بلکہ اس کی طاقت کا اظہار ہے۔
اسماء کی کہانی صرف کھیل تک محدود نہیں ہے۔ وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ اس نے کئی جماعتیں اپنے علاقے کے اسکول میں پڑھیں، مگر بدقسمتی دیکھیے کہ جس بچی نے وزیرستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا، آج وہ اپنے علاقے میں ہائی اسکول نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھنے پر مجبور ہے۔ اس نے اعلیٰ حکام سے بارہا اپیل کی، سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنائیں مگر نظام کی بے حسی نے اسے کتابوں سے دور کر دیا۔ آج وہ انٹرنیٹ کے ٹوٹے پھوٹے سگنلز پر اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کر رہی ہے
آئینہ وزیر پشاور زلمی کی نئی امید
شمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ سے تعلق رکھنے والی ننھی آئینہ وزیر کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ اس کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ ایک کچے میدان میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کرکٹ بالنگ کر رہی تھی۔ اس کی ‘لائن اور لینتھ’ اتنی درست تھی کہ کرکٹ کے ماہرین دنگ رہ گئے اور جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل اسٹین سے لوگوں نے تشبیہ دی۔

جب یہ ویڈیو وائرل ہوئی، تو جہاں ایک طرف جاوید آفریدی مالک پشاور زلمی نے اسے ‘ویمن زلمی لیگ’ کا حصہ بنانے کا اعلان کیا، وہیں دوسری طرف اس ویڈیو کو اپ لوڈ کرنے والے نوجوان زعفران وزیر کو مسلح افراد نے اٹھا لیا۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کے دور میں بھی ایک بچی کا مسکرانا یا کھیلنا کچھ لوگوں کے نزدیک جرم ہے۔ لیکن آئینہ کے عزم نے یہ ثابت کر دیا کہ اب وزیرستان کی بیٹیوں کو ڈرا کر پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
رضیہ محسود اور گل نساء، حقوقِ نسواں کی نئی آواز
وزیرستان کی تاریخ میں پہلی بار خواتین نے ان جرگوں اور سیمینارز میں شرکت کرنا شروع کی ہے جہاں پہلے صرف مردوں کا راج تھا۔ رضیہ محسود اور گل نساء وہ دو نام ہیں جنہوں نے قبائلی خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی گل نساء وہ ایک ایسی بہادر لڑکی ہے جو اپنے علاقے میں لڑکیوں کے لیے ایک اسکول چلا رہی ہیں جہاں مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کا مقصد جہالت کے اس اندھیرے کو ختم کرنا ہے جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی نرسری بنتا ہے۔
رضیہ محسود
رضیہ نے جرگوں میں بیٹھ کر خواتین کے مسائل پر بات کی۔ ان کی تصاویر جب وائرل ہوئیں تو مقامی انتظامیہ اور بعض روایتی حلقوں نے اسے ‘قبائلی روایات کے خلاف’ قرار دے کر انہیں سخت دھمکیاں دیں اور آئندہ ایسے اقدامات سے باز رہنے کی تلقین کی۔ مگر رضیہ آج بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں کہ جب تک عورت کو فیصلے کے عمل میں شامل نہیں کیا جائے گا، وزیرستان میں پائیدار امن نہیں آسکتا۔
راحیلہ
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانہ میں ایک جلسے کے دوران ایک معصوم بچی راحیلہ کی تصویر نے سب کو خون کے آنسو رلا دیا راحیلہ ان ہزاروں بچوں میں سے ایک ہے جو ‘لینڈ مائنز’ بارودی سرنگوں کا شکار ہوکر معذور ہوچکے ہیں۔ اس کی تصویر نے پوری دنیا کی توجہ ان پوشیدہ قاتلوں’ کی طرف مبذول کروائی جو آج بھی وزیرستان کی زمین میں دفن ہیں اور معصوم زندگیوں کے چراغ گل کر رہے ہیں۔ راحیلہ کی ہمدردی میں اٹھنے والی آوازیں دراصل اس پورے خطے کے دکھوں کا نوحہ تھیں۔
اسماء وزیر، آئینہ وزیر اور راحیلہ—ان تینوں بچیوں کے حالات اور پس منظر مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ان کا مقصد ایک ہی ہے۔ ان سب نے مل کر وزیر اعلیٰ پنجاب سے دانش اسکول میں داخلے کی درخواست کی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیرستان کی بیٹی اب صرف امداد نہیں بلکہ ‘تعلیم’ مانگ رہی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ قلم ہی وہ واحد ہتھیار ہے جو اسے غربت، پسماندگی اور قدامت پسندی کی زنجیروں سے آزاد کراسکتا ہے۔
وزیرستان کی ان بیٹیوں کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ یہاں ہر قدم پر ‘غیرت روایت’ اور ‘مذہب’ کے خود ساختہ لبادے اوڑھ کر ان کے راستے روکے جاتے ہیں۔ سوشل ایکٹیوسٹ اور آواز اٹھانے والوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے ہراساں کیا جانا ایک معمول بن چکا ہے آئینہ وزیر کی ویڈیو بنانے والے کو مسلح افراد نے کئی گھنٹوں تک حراست میں لیا اور وڈیو بنانے پر معافی مانگننے کے بعد رہا کردیا گیا۔
ڈیجیٹل دور میں بھی ان علاقوں کو انٹرنیٹ سے محروم رکھنا ان بچیوں کو دنیا سے کاٹنے کے مترادف ہے، وزیرستان کی ان بیٹیوں نے جو راستہ چنا ہے، وہ کٹھن ضرور ہے مگر اب واپسی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اسماء کی فٹ بال کک، آئینہ کی بالنگ اور رضیہ محسود کی تقریر نے اس برف کو پگھلا دیا ہے جو صدیوں سے ان کے شعور پر جمی ہوئی تھی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














