وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ سنجیدہ مذاکرات کے خواہاں ہیں، ان سے بات نہیں کی جارہی، جبکہ جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، ان کو درخواستیں دی جا رہی ہیں۔
سینیٹ آف پاکستان کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت جمہوری انداز میں معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے کیونکہ جمہوریت کا راستہ مذاکرات سے ہوکر گزرتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لیے حکومت کا ساتھ دے اور سیاسی عمل کا فعال حصہ بنے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتی ہے، رانا ثنااللہ
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کرنی چاہیے کیونکہ ماضی میں بھی وہ ایسی کمیٹیوں کا حصہ رہی ہے، تاہم بعد میں بعض فیصلوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے اس وقت بھی مفاہمت کی کوشش کی تھی جب اپوزیشن اقتدار میں تھی اور آج بھی ملک کی بہتری کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے قانونی مقدمات کے حوالے سے کہا کہ اپوزیشن کیسز پر اعتراض اٹھاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں بھی عدالتوں سے ریلیف لینا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ڈاکٹرز نے ان کا معائنہ کیا اور ان کے مطالبے پر بعض افراد کو بھی شامل کیا گیا، جبکہ بیرسٹر گوہر خان کو شرکت کی دعوت دی گئی لیکن انہوں نے شرکت سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طبی معائنے کے بعد ڈاکٹر کی رائے میں علاج کو درست قرار دیا گیا، اس لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس حوالے سے مزید مطالبات نہ تو پیش کیے گئے اور نہ ہی منظور ہوئے ہیں۔











