اکثر لوگ خراٹے کو معمولی عادت یا نیند کے دوران پوزیشن، وزن یا ناک کی بندش سے جوڑ دیتے ہیں، لیکن حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ رات کی سانس پر خفیہ اثر ڈالنے والا ایک اور عنصر کم وٹامن ڈی بھی ہوسکتا ہے۔
وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے مشہور ہے، لیکن اس کے اثرات صرف یہی نہیں ہیں۔ یہ پٹھوں کی مضبوطی، اعصابی سگنلنگ اور سوزش کے کنٹرول میں بھی مدد دیتا ہے، جو نیند کے دوران ہوا کی نالی کی کارکردگی سے براہِ راست جڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا خواتین بھی خراٹے لیتی ہیں؟ ریسرچرز نے غلط فہمی دور کردی
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی پٹھوں کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ وہ پٹھے جو نیند کے دوران اوپری ہوا کی نالی کو کھلا رکھتے ہیں، صحیح اعصابی اور پٹھوں کے کنٹرول پر انحصار کرتے ہیں۔ جب یہ پٹھے بہت زیادہ ڈھیلے پڑ جائیں تو ہوا کا بہاؤ متلاطم ہو جاتا ہے، جس سے گلے کی نرم بافتیں وائبریٹ کرتی ہیں،جنہیں خراٹے کہا جاتا ہے۔
سوزش بھی مسئلے کو بڑھاتی ہے۔ وٹامن ڈی میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات ہوتی ہیں اور اس کی کمی سے جسم میں سوزش کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ تحقیقات کے مطابق مزمن سوزش اوپری ہوا کی نالی کے بافتوں کو سوجا ہوا اور بند ہونے کے زیادہ خطرے والا بنا سکتی ہے، جس سے خراٹے کی شدت اور امکان بڑھ جاتا ہے۔
2023 میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق کم وٹامن ڈی کی سطح پٹھوں کے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی، اوپری ہوا کی نالی کے سلیپ اپنیا اور پٹھوں کے اعصابی کنٹرول کی خرابی سے منسلک ہے، جو خراٹوں کے ساتھ جڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: منہ کھول کر سونا کسی بیماری کی علامت تو نہیں؟ ڈاکٹرز کی رائے اور احتیاطی تدابیر
اگرچہ تحقیق یہ نہیں کہتی کہ وٹامن ڈی کی کمی خراٹے کا براہِ راست سبب ہے، لیکن یہ ایک واضح حیاتیاتی راستہ فراہم کرتی ہے جو اس تعلق کی وضاحت کرتا ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی عام ہے، حتیٰ کہ دھوپ والے علاقوں میں بھی۔ شہری طرزِ زندگی، اندر رہ کر کام کرنا، محدود سورج کی روشنی، آلودگی اور غذائی کمی اس کے اسباب ہیں۔ اکثر افراد کو اس کمی کے واضح علامات نظر نہیں آتیں، جس کی وجہ سے یہ آسانی سے نظر انداز ہو جاتی ہے۔
وٹامن ڈی کی سطح جانچنے کے لیے سادہ خون کا ٹیسٹ کافی ہے۔ اگر سطح کم ہو تو ڈاکٹر محدود سورج کی روشنی، وٹامن ڈی سے بھرپور غذائیں جیسے فیٹی فش اور غذائیت سے مالا مال مصنوعات، یا سپلیمنٹس تجویز کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری کمبل میں اچھی نیند کیوں آتی ہے؟
یاد رکھیں، وٹامن ڈی کی کمی کا علاج خراٹے کا واحد حل نہیں، اور یہ سلیپ اپنیا جیسے مسائل کی تشخیص کی جگہ نہیں لے سکتا، لیکن کمی کو دور کرنے سے کچھ افراد میں پٹھوں کی مضبوطی، سوزش میں کمی اور نیند کے دوران ہوا کی نالی کی استحکام بہتر ہو سکتی ہے۔
خراٹے اکثر جسم کی نشاندہی ہوتے ہیں کہ کچھ درست نہیں ہے، اور بعض اوقات مسئلہ ناک یا تکیے میں نہیں بلکہ اُس غذائی عنصر میں ہوتا ہے جس پر جسم خاموشی سے سانس کی روانی کیلئے انحصار کرتا ہے۔













