محکمہ موسمیات نے شمالی علاقوں کے لیے فروری تا اپریل موسمی پیش گوئی میں گلگت بلتستان میں گلیشیئر جھیل کے اچانک پھٹنے (گلیف) کے خطرے کی شدید احتمال کی وارننگ جاری کی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ مسلسل غیر معمولی درجہ حرارت ہے جو برف اور گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار کو تیز کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز گلگت بلتستان کو کس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں؟
پی ایم ڈی کے مطابق گلگت، بُنْجی، چلاس، ہنزہ، غذر اور استور جیسے علاقوں میں دن کے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 3 سے5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ اور رات کے کم سے کم درجہ حرارت ایک سے 3.5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیے گئے۔
خاص طور پر گلگت اور بُنْجی میں رات کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا جس سے رات کے وقت برف دوبارہ جمنے کا عمل کم ہوگیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ گلیشیئر کے پگھلنے سے جھیلوں میں پانی کی مقدار بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں ندی نالوں اور پہاڑی وادیوں میں گلیف کے واقعات کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلیشیئرز کا پگھلنا میدانی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے خطرناک
پی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو گلگت، غذر، ہنزہ، بُنْجی، چلاس اور استور میں گلیشیئر پگھلنے اور گلیف کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 13,032 گلیشیئر موجود ہیں، جو پولر ریجنز کے علاوہ سب سے بڑے ذخائر ہیں، تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تقریباً 10,000 گلیشیئر گلگت بلتستان اور چترال میں پچھلے سالوں میں سکڑنے لگے ہیں۔














