امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے ردعمل میں مختلف ممالک پر مزید تجارتی محصولات عائد کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تجارتی تعلقات میں تناؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر کوئی ملک امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے سے فائدہ اٹھانے یا اس کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے پہلے سے کہیں زیادہ سخت ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ردعمل، صدر ٹرمپ نے انٹرنیشنل ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک طویل عرصے سے امریکا کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں، اور اب ان کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ بطور صدر نئے ٹیرف نافذ کرنے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری کے پابند نہیں اور ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے اپنے اختیارات استعمال کریں گے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی جانب سے ہنگامی قانون کے تحت عائد کیے گئے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا اطلاق اس مقصد کے لیے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عدالت کے مطابق صدر نے ٹیرف نافذ کرتے وقت قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ اور چین نے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کرلیا، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں بے اثر
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی میں چین، بھارت، پاکستان اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک پر اضافی محصولات عائد کیے تھے، جنہیں ان کی معاشی حکمت عملی کا مرکزی حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم عدالت کے حالیہ فیصلے کو اس پالیسی کے لیے ایک اہم دھچکا سمجھا جارہا ہے۔














