پاکستانی جڑواں بچوں کی علیحدگی کے لیے سعودی عرب میں طبی معائنہ شروع

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان سے تعلق رکھنے والے جڑے ہوئے جڑواں بچے، سفیان اور یوسف، پیر کے روز علیحدگی کے ممکنہ آپریشن کے جائزے کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔ انہیں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض سے براہِ راست کنگ عبداللہ اسپیشلائزڈ چلڈرن ہاسپیٹل منتقل کیا گیا، جہاں ان کی طبی حالت کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کانگو میں نایاب پہاڑی گوریلا کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش، تحفظ کے لیے نگرانی جاری

یہ اقدام سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لایا گیا۔ بچوں کے اہلخانہ نے سعودی قیادت اور عوام کا پرتپاک استقبال اور فوری تعاون پر دلی شکریہ ادا کیا، جیسا کہ سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

مزید پڑھیں: کینیڈا میں دنیا کے سب سے پریمیچور جڑواں بچوں کی پیدائش ، گنیز بک میں نام شامل

سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بھی اس انسان دوست اقدام پر قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ سعودی ٹیم جڑے ہوئے بچوں کی علیحدگی کے پیچیدہ آپریشنز میں عالمی شہرت رکھتی ہے، جس کی بدولت مملکت اس میدان میں عالمی رہنما اور متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟