ڈھاکا کی ایک عدالت نے نیشنل یونیورسٹی کے 2 سابق وائس چانسلرز ہارون الرشید اور ڈاکٹر ایم ڈی مشیر رحمان کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات پر جاری تحقیقات کے تناظر میں لگائی گئی ہے۔
منگل کے روز سینئر اسپیشل جج محمد سبیر فیض کی عدالت نے انسدادِ بدعنوانی کمیشن کی درخواست پر یہ حکم جاری کیا۔ عدالتی بینچ اسسٹنٹ محمد ریاض حسین نے اس پیشرفت کی تصدیق کی۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر احسن اقبال کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات، دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
انسدادِ بدعنوانی کمیشن کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نیشنل یونیورسٹی میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی انکوائری ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا کہ متعلقہ افراد ملک سے باہر جا سکتے ہیں، جس سے تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں، لہٰذا ان کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی ضروری ہے۔
ہارون الرشید، جو ڈھاکا یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے سابق پروفیسر رہ چکے ہیں، 6 مارچ 2013 کو پہلی بار نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے تھے اور 2017 میں انہیں مزید 4 سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ڈھاکا: موبائل فون کی اونچی آواز پر جھگڑا، ماں بیٹی قتل، ملزم گرفتار
ڈاکٹر ایم ڈی مشیر رحمان نے 2021 میں وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ اس سے قبل ڈھاکا یونیورسٹی اور چٹاگانگ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔














