وفاقی وزیر احسن اقبال کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات، دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال

منگل 17 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے ساتھ ڈھاکا میں ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔

احسن اقبال ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیرِ اعظم طارق الرحمن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر، پروفیسر محمد یونس سے بھی ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیے: احسن اقبال نو منتخب وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش پہنچ گئے

ملاقات کے دوران انہوں نے پروفیسر یونس اور بنگلہ دیش کے عوام کو حالیہ انتخابات کی کامیاب تکمیل اور تاریخی جمہوری عبوری حکومت پر مبارکباد پیش کی اور نئے قیادت کے تحت بنگلہ دیش میں استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان بنگلہ دیش تعلقات میں نئے، مثبت باب کے آغاز پر تبادلہ خیال کیا۔ وفاقی وزیر نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت کی تعریف کی، جس میں تجارتی روابط میں اضافہ، براہِ راست فضائی رابطے کی بحالی اور عوامی رابطوں کی تجدید شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور جغرافیائی سیاسی حالات میں اقتصادی تعاون، کنیکٹیویٹی اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر پروفیسر یونس کی عالمی سطح پر سماجی کاروبار اور جامع ترقی میں نمایاں خدمات کو بھی سراہا اور انہیں پاکستان دعوت دی گئی تاکہ مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

احسن اقبال نے چیف ایڈوائزر کو پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور منصوبے کے تحت علامہ اقبال اسکالرشپس کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ بنگلہ دیش کے طلبا کا پہلا بیچ پاکستان کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر چکا ہے۔ نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور تعلیمی شراکت داریوں کو فروغ دینے سے دیرپا اعتماد اور طویل مدتی تعاون کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

ایکس اکاؤنٹ پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے ثقافتی، تاریخی اور سماجی روابط ہیں۔ اب وقت ہے کہ ان روابط کو منظم اقتصادی شراکت داریوں، تعلیمی تبادلوں اور علاقائی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔ دونوں ممالک کا مستقبل مربوط تجارت، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور جنوبی ایشیا میں مستحکم اور خوشحال ماحول قائم کرنے میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار