کیا سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی؟

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو شدید تھریٹ کے باوجود مبینہ طور پر سرکاری سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپس

سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ترجمان کے مطابق علی امین گنڈاپور سے گزشتہ رات اچانک سیکیورٹی واپس لی گئی۔ ترجمان فراز مغل نے وی نیوز کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی پر وزیراعلیٰ ہاؤس کی سیکیورٹی تعینات تھی۔

’گزشتہ رات 11 بجے وزیراعلیٰ ہاؤس سے سیکیورٹی اسکواڈ کو کلوز کرنے کی ہدایت دی گئی۔‘

فراز مغل نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کو تھریٹ ہیں اور وہ سابق وزیراعلیٰ ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے سیکیورٹی واپس لینے پر کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین کی سیکیورٹی پر 16 اہلکار، گاڑیاں اور ایک جیمر تعینات تھا، جو واپس لے لیا گیا۔

’اس وقت علی امین کی ذاتی سیکیورٹی ان کے ساتھ ہے، جبکہ ڈی آئی خان پولیس کے مقامی اہلکار بھی موجود ہیں، تاہم ان کے پاس جدید اسلحہ نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ کم کیوں ہوا؟ علی امین گنڈا پور کا اندرونی کمزوریوں کا اعتراف

فراز مغل نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے سیکیورٹی واپس لینے پر کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ خوشی سے انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ علی امین کو سرکاری سیکیورٹی کی ضرورت نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی مطالبہ کیا ہے، تاہم تھریٹ اور سیکیورٹی خدشات کے باعث انہیں سیکیورٹی دی گئی تھی۔

فراز مغل نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی کو بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیاں چاہییں تو علی امین فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس وسائل موجود ہیں۔

’علی امین کے آباؤ اجداد کی ہزاروں کنال زمین ہے، چند کنال بیچ کر گاڑیاں فراہم کی جاسکتی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: عمران نے نواز شریف کو باہر بھیجا، آپ بانی پی ٹی آئی کو بھیج دیں، علی امین گنڈاپور کا وزیراعظم سے مطالبہ

سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی سیکیورٹی واپس لینے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ سی ایم سیکیورٹی گزشتہ روز چیف سیکیورٹی آفیسر کے حکم پر واپس لی گئی۔

’میرے پاس ایک جیمر،2 ڈبل کیبن گاڑیاں، ڈرائیور سمیت 14 افراد پر مشتمل سٹاف تھا۔ ڈی آئی خان ایک حساس علاقہ ہے اور مجھے پہلے سے تھریٹ الرٹس موصول ہیں۔ یہ تھریٹ الرٹس بحیثیت سابق وزیراعلیٰ اور حکومت میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر پالیسی کے باعث ملے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان خیبر پختونخوا کا دہشت گردی سے متاثرہ علاقہ ہے، اس کے باوجود مجھ سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔ جب چیف سیکیورٹی آفیسر سے وجوہات معلوم کیں تو بتایا گیا کہ احکامات اوپر سے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شراب و اسلحہ برآمدگی کیس: علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار، وارنٹ گرفتاری جاری

انہوں نے کہا کہ سی ایم ہاؤس میں اگر گاڑیوں کی کمی ہے تو میں اپنی گاڑیاں بھیج دوں گا، اگر مجھے دوبارہ گاڑی یا سیکیورٹی دی گئی تو میں نہیں لوں گا۔ صوبے میں ہماری حکومت ہے، اس کے باوجود یہ بلاجواز اقدام کیا گیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس نے علی امین گنڈاپور سے سیکیورٹی واپس لینے کی تردید کر دی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق زیرِ گردش دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں۔

بیان کے مطابق اس حوالے سے نہ کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی متعلقہ حکام کو ایسی کوئی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟