بھکر کے علاقے داجل چیک پوسٹ پر بین الصوبائی سرحد کے قریب دریائے سندھ کے پار ایک خودکش حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق حملہ منظم دہشتگردی کا حصہ تھا جس کا مقصد خوف پھیلانا اور ریاستی عزم کو آزمانا ہے۔
مزید پڑھیں: بھکر میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید، 3 زخمی
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی بیرونی سرپرستی اور دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے پراکسی نیٹ ورکس کے تحت کی گئی تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جا سکے۔ حکومت نے واضح کیا کہ پاکستان کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور دہشتگردی کی معاونت کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
حکام کے مطابق سرحد پار افغانستان سے حالیہ دھمکیوں اور اشتعال انگیزی نے دہشتگرد گروہوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا، تاہم ریاست ہر سطح پر مؤثر جواب دے گی۔
حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے شہریوں کے تحفظ کے لیے عظیم قربانی دی۔ ریاست شہدا کے اہلخانہ کی مکمل کفالت، فلاح و بہبود اور اعزاز کو یقینی بنائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ قومی اتحاد کا امتحان ہے اور دہشتگرد سیاسی تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے ملک کو یکجہتی اور مشترکہ مؤقف کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلی دفاعی دیوار ہیں، لہٰذا انسدادِ دہشتگردی صلاحیت، ساز و سامان، تربیت، نقل و حرکت، انٹیلی جنس سپورٹ اور اہلکاروں کی فلاح پر مزید سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: ’علم حاصل کرنے سے ہی عزت بڑھتی ہے‘، مریم نواز کا بھکر میں دانش اسکول کا افتتاح
صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قیادت کا کردار ادا کرے، حکومتی ترجیحات کو انسدادِ دہشتگردی اقدامات سے ہم آہنگ کرے اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کو مقدم رکھے۔













