پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے (West Bank) کے متنازعہ علاقے سی (Area C) میں زمین کی رجسٹریشن دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کو سختی سے مسترد کیا ہے، جسے عالمی سطح پر غیر قانونی علاقائی تسلط اور ڈی فیکٹو الحاق کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی شدید مذمت
پاکستان نے واضح کیا کہ یہ یکطرفہ اقدام بین الاقوامی قانون، جنوا کنونشن اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اسرائیل کے فیصلے پر 19 ممالک کے وزرائے خارجہ، عرب لیگ اور او آئی سی نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فلسطینی زمین کو ’ریاستی زمین‘کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کرنے سے امن مذاکرات اور دو ریاستی حل کی راہ متاثر ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت
پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کی تکرار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون پر مبنی منصفانہ امن اور 1967 کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشريف ہونا چاہیے۔














