وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ فنانسنگ پلان پر عملدرآمد جاری ہے اور قرض رول اوور کے معاملے پر یو اے ای سے رابطے میں ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین نوید قمر کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں ایگزم بینک ترمیمی بل 2026 پر غور کیا گیا اور بینک کی کارکردگی سمیت مختلف مالی امور پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور بلال اظہر کیانی نے بھی شرکت کی۔
مزید پڑھیں: یو اے ای نے پاکستان کا 2 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کردیا
ایگزم بینک میں مجوزہ اصلاحات
سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایگزم بینک کو ایس او ای ایکٹ سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، بینک کے صدر کی تقرری کا قانون مزید سخت کیا جا رہا ہے اور بورڈ کی ہیئت میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق ایکسپورٹ فنانس کا کردار اسٹیٹ بینک سے ایگزم بورڈ کو منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ بورڈ میں ایک خود مختار ڈائریکٹر کو بھی شامل کیا جائے گا۔
سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ ایگزم بینک 2016 میں قائم ہوا تاہم 2024 میں فعال ہوا۔
برآمدات اور کارکردگی پر سوالات
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہاکہ حکومت برآمدات پر مبنی معیشت کا دعویٰ کرتی ہے لیکن برآمدات کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے۔
رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہاکہ کمیٹی نے اب تک ایگزم بینک کی کارکردگی پر کوئی بریفنگ نہیں لی اور سوال اٹھایا کہ کیا بینک کے قیام کے بعد برآمدات میں بہتری آئی ہے؟ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی ایگزم بینک کی کارکردگی پر باقاعدہ بریفنگ لے گی۔
رکن کمیٹی جاوید حنیف نے کہاکہ سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی انتہائی خراب ہے اور ایس او ایز ایکٹ پر تفصیلی گفتگو ہونی چاہیے کیونکہ اس بل میں اوور رائڈنگ دی گئی ہے۔
اس پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جواب دیا کہ سرکاری ملکیتی اداروں کے مسائل کئی دہائیوں پر محیط ہیں جبکہ ایس او ایز ایکٹ دو سال قبل بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو ایگزم بینک پر بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں۔
یو اے ای رول اوور اور آئی ایم ایف پروگرام
اجلاس میں متحدہ عرب امارات سے قرض کے رول اوور سے متعلق بھی سوال اٹھایا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ اس حوالے سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اس معاملے پر پریشانی کی ضرورت نہیں۔
مزید پڑھیں: چین نے پاکستان کا 3.4 ارب ڈالر قرض رول اوور کردیا، زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان
ان کا کہنا تھا کہ اس بارے ہمیں پریشانی ہونی چاہیے، میڈیا کو کیوں ہے؟
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ فنانسنگ پلان پر عملدرآمد جاری ہے اور قرض رول اوور کے معاملے پر یو اے ای سے رابطے میں ہیں۔














