شمالی تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی شہر چیانگ مائی میں واقع مشہور ٹائیگر پارک ٹائیگر کنگڈم چیانگ مائی میں ایک پراسرار بیماری کے باعث کم از کم 72 شیر ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اموات 8 فروری سے 19 فروری کے درمیان ہوئیں، جو پارک میں موجود شیروں کی کل تعداد کا تقریباً 30 فیصد بنتی ہیں۔
یہ پارک سیاحوں میں اس لیے مقبول ہے کیونکہ یہاں انہیں شیروں کو چھونے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
واقعے کے بعد حکام نے پارک کو 14 دن کے لیے بند کر دیا ہے۔ اس دوران مکمل جراثیم کشی اور ویکسینیشن کا عمل جاری ہے۔
مقامی محکمہ لائیوسٹاک کے مطابق مرنے والے شیروں کے نمونوں میں کینائن ڈسٹیمپر وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جو جانوروں میں تیزی سے پھیلنے والی متعدی بیماری ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس وائرس کے انسانوں میں منتقل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
بعض نمونوں میں بیکٹیریل انفیکشن کے آثار بھی پائے گئے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
وائرس کیسے پھیلا؟ تحقیقات جاری
حکام تاحال اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ وائرس پارک میں کیسے پھیلا۔ تاہم اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کوئی انسان متاثر نہیں ہوا۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر پارک کے عملے کو نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وائرس اب مزید نہیں پھیل رہا اور باقی ماندہ شیر محفوظ ہیں۔
بیمار شیروں کو ہلاک کرنے کی سفارش
ہلاک ہونے والے تمام شیروں کو دفن کر دیا گیا ہے، جبکہ شدید بیمار شیروں کو ہلاک کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
تھائی لینڈ کے قومی محکمہ لائیوسٹاک کے ڈائریکٹر سومچوان رتنامونگکلانون نے کہا کہ جب تک ہمیں معلوم ہوا کہ شیر بیمار ہیں، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
ہلاکتوں کا سبب آلودہ گوشت؟
ابتدائی طور پر حکام کو شبہ تھا کہ شیروں میں فیلائن پاروو وائرس موجود ہے۔ تاہم بعد ازاں کینائن ڈسٹیمپر وائرس کی تصدیق ہوئی۔
بینکاک پوسٹ کے مطابق یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ آلودہ کچا مرغی کا گوشت، جو شیروں کو بطور خوراک دیا جاتا تھا، وبا کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کی تنقید
واقعے کے بعد جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے قید میں رکھے گئے شیروں کی حالتِ زندگی پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مقامات پر بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، خصوصاً جہاں جانوروں اور سیاحوں کے درمیان قریبی رابطہ موجود ہو۔
پیٹا ایشیا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر سیاح ایسے مقامات سے پرہیز کریں تو اس طرح کے سانحات کے امکانات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
سیاحتی صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف جانوروں کی فلاح و بہبود بلکہ سیاحتی صنعت کے حفاظتی معیارات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے، تاہم اس سانحے نے جنگلی حیات کے تحفظ اور سیاحتی سرگرمیوں کے توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔












