خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ڈیوٹی ختم کرکے گھر جانے والی ڈاکٹر مہوش حسنین کے قتل کو 5 روز گزر جانے کے باوجود پولیس قاتلوں کو گرفتار نہ کرسکی۔ تاہم پولیس نے 2 مبینہ ملزمان کی تصاویر جاری کرکے عوام سے گرفتاری میں مدد کی اپیل کی ہے۔
ڈاکٹر مہوش حسنین ضلع کوہاٹ کے سرکاری اسپتال میں تعینات تھیں اور ڈیوٹی ختم کرکے گھر جا رہی تھیں کہ نامعلوم افراد نے انہیں نشانہ بنایا اور گولی مار کر قتل کردیا۔
تیماردار سے تکرار کے بعد قتل
پولیس اور ڈاکٹرز کے مطابق ڈاکٹر مہوش کو ایک تیماردار نے قتل کیا، جس کے ساتھ اسی دن اسپتال میں زبانی تکرار بھی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مہوش نے تیماردار کو خواتین وارڈ میں داخلے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ وہ اندر آنے کے بجائے باہر انتظار کرے۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی اصل محرکات ملزمان کی گرفتاری کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کیخلاف ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، اسپتال میں طبی سروسز معطل
ڈاکٹر مہوش کے قتل کے بعد ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں اور اس واقعے نے ڈاکٹرز کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ کوہاٹ پولیس کے ایک افسر کے مطابق اب تک کی معلومات کے مطابق دورانِ ڈیوٹی ڈاکٹر مہوش اور ایک تیماردار کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔
مقتولہ ڈاکٹر کے اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹر مہوش کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد مذکورہ تیماردار نے مبینہ طور پر ڈاکٹر کو نشانہ بنایا۔
مقتولہ ڈاکٹر کے کزن حماد خان نے بتایا کہ مہوش ڈیوٹی سے گھر واپس آ رہی تھیں کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے بھی اسپتال کے وارڈ میں تیماردار کے ساتھ ناخوشگوار واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دورانِ ڈیوٹی ایک تیماردار نے خواتین وارڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر ڈاکٹر مہوش نے اسے باہر انتظار کرنے کو کہا۔ اس بات پر دونوں کے درمیان مختصر تلخ کلامی ہوئی۔

حماد خان کے مطابق ملزم نے انتظار کیا اور ڈیوٹی کے بعد گھر واپسی پر ڈاکٹر مہوش کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔ وہ ایک آٹو میں جا رہی تھیں کہ ملزم نے گاڑی رکوا کر فائرنگ کردی۔
مقتولہ کو 6 گولیاں لگیں
ڈاکٹر مہوش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس کے مطابق انہیں جسم کے مختلف حصوں پر چھ گولیاں لگیں۔ گولیاں ہاتھ، سینے اور پیٹ میں لگیں، جس سے دل، پھیپھڑے، جگر اور گردے سمیت کئی اعضا متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق دل اور پھیپھڑوں پر لگنے والی چوٹ موت کی وجہ بنی۔
5 دن گزرنے کے باوجود کوہاٹ پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی نشاندہی ہوچکی ہے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ 2 ملزمان کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں اور عوام سے گرفتاری میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔
ڈاکٹرز سراپا احتجاج، سروسز بند
کوہاٹ میں ڈاکٹر مہوش حسنین کے قتل کے خلاف خیبر پختونخوا بھر میں ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں اور صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام سروسز کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار بٹانی نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ڈاکٹرز کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ قاتل وہی شخص ہے جس کے ساتھ مقتولہ کی اسپتال میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ کی سماعت سے محروم ڈاکٹر مہوش شریف، عزم و ہمت کی شاندار مثال
انہوں نے ملزمان کی عدم گرفتاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر بھر میں پولیس چوکیاں موجود ہیں، واقعہ مصروف ترین سڑک پر پیش آیا، مگر ملزم اب تک گرفتار نہیں ہوسکا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے، ہڑتال جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی کے دوران محفوظ نہیں تو ایسے حالات میں کام کرنا ممکن نہیں۔
کوہاٹ پولیس کے مطابق ڈاکٹر مہوش کے اہل خانہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کے خاکے بھی جاری کیے گئے ہیں۔ کیس کی تفتیش اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔














