کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے اسپتال کے قریب عثمان مسجد کے نزدیک 22 فروری کی رات قریباً 8 بج کر 5 منٹ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے لیڈی ڈاکٹر مہوش جاں بحق ہو گئی تھیں۔
اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا۔
مزید پڑھیں: کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کیخلاف ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، اسپتال میں طبی سروسز معطل
مقتولہ کے شوہر محمد حسنین، سکنہ کے ڈی اے، نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اس بیان کی روشنی میں پولیس نے جدید تفتیشی تقاضوں کے مطابق مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں۔
واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی کے اور صوبائی وزیر صحت نے انسپکٹر جنرل پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کی جلد گرفتاری کی ہدایات جاری کیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جن میں ایس پی سٹی، ایس پی انویسٹی گیشن، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر، انویسٹی گیشن اسٹاف اور ایس ایچ او تھانہ کے ڈی اے سمیت آپریشن و انفارمیشن یونٹس شامل تھے۔
پولیس ٹیموں نے شبانہ روز محنت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ ذرائع کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کرلیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ، موٹر سائیکل اور رکشہ بھی برآمد کر لیا گیا۔
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان حیات گل اور سیف علی، ساکنان گمکول کیمپ، اس واردات میں ملوث ہیں۔ بعد ازاں صوبے کے مختلف اضلاع میں چھاپوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملزمان ساکنان گمکول نمبر 3 کو گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم حیات گل کی لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ زبانی تکرار ہوئی تھی، جس کی رنجش میں ملزمان نے طیش میں آ کر فائرنگ کی اورانہیں قتل کر دیا۔
مزید پڑھیں: کوہاٹ میں ینگ ڈاکٹر کا قتل: ’خاتون ڈاکٹر نے خواتین وارڈ میں داخلے سے منع کیا جو اس کا قصور بنا‘
یہ کیس نہایت حساس نوعیت کا تھا۔ اسی دوران ضلع میں دہشتگردی اور امن و امان کی دیگر سنگین صورتحال کے باعث پولیس کو بھاری جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں ڈی ایس پی لاچی سمیت 5 پولیس اہلکاروں کی شہادت شامل ہے۔ ان چیلنجز کے باوجود پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان مکمل کرکے انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔













