کینیا کے میراتھن رنر سیباسشین ساوے نے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد اپنے ملک میں شاندار اعزازات حاصل کر لیے ہیں۔
انہوں نے لندن میراتھن میں 1 گھنٹہ 59 منٹ 30 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کر کے تاریخ رقم کی، اور اپنے ہم وطن کیلون کپٹم کا 2:00:35 کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
ریکارڈ قائم کرنے کے بعد 31 سالہ ایتھلیٹ کا وطن واپسی پر ہیرو جیسا استقبال کیا گیا، جبکہ صدر ولیم روتو نے جمعرات کو اسٹیٹ ہاؤس نیروبی میں ان کے اعزاز میں تقریب منعقد کی۔
یہ بھی پڑھیں: لندن: میراتھن پہلی مرتبہ 2 گھنٹے سے کم وقت میں مکمل، کینیا کے سباسٹین ساوے نے تاریخ رقم کردی
صدر روتو نے سیباسشین ساوے کو عالمی ریکارڈ توڑنے پر 50 لاکھ کینین شلنگ اور گولڈ میڈل جیتنے پر مزید 30 لاکھ شلنگ دیے، یوں حکومتی انعامی رقم 80 لاکھ شلنگ تک پہنچ گئی۔
اس کے علاوہ انہیں ایک گاڑی بھی تحفے میں دی گئی جس کی خصوصی نمبر پلیٹ ’01 59 30‘ ان کے تاریخی وقت کی عکاسی کرتی ہے۔
سیباسشین ساوے نے بھی صدر کو ایڈیڈاس پرو ایو 3 سپر شوز کا تحفہ پیش کیا، جنہیں پہن کر انہوں نے یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔
Sabastian Sawe 🇰🇪 was welcomed back to Kenya by President William Ruto after breaking the marathon World Record in London!
He received KSh 8 million, a custom “1:59:30” plate number, and was offered any car of his choice. pic.twitter.com/v9VIFfRdMr
— Track & Field Gazette (@TrackGazette) April 30, 2026
صدر روتو نے ساوے کی کارکردگی کو کینیا کی طویل فاصلے کی دوڑ میں برتری کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2 گھنٹے سے کم وقت میں میراتھن مکمل کرنا ملک کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ کینیا طویل فاصلے کی دوڑ میں دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور وہاں کے رنرز قومی ہیروز سمجھے جاتے ہیں، تاہم ایلیٹ سطح تک پہنچنے کے دباؤ کے باعث ڈوپنگ ایک بڑا مسئلہ بھی رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لندن میراتھون میں پاکستانی ایتھلیٹس نے دھاک بٹھادی، شاندار ٹائمنگز سے نیا تاثر قائم
ماضی میں ولسن کپسینگ اور ڈینیئل وانجیرو جیسے معروف رنرز پر پابندیاں بھی عائد ہو چکی ہیں۔
اپنی کارکردگی پر کسی بھی شبہے کو دور کرنے کے لیے ساوے نے رضاکارانہ طور پر اضافی ڈوپ ٹیسٹ کروائے، حتیٰ کہ گزشتہ سال ایتھلیٹکس انٹیگریٹی یونٹ کے تحت 25 مرتبہ ٹیسٹنگ کے لیے 50 ہزار ڈالر بھی ادا کیے۔












