وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور افغان طالبان حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ اب روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے اور پاکستان اس معاملے پر بارہا عالمی برادری کو آگاہ کر چکا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش اور دیگر دہشتگرد حملوں میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان ہر قسم کی پناہ اور سہولت کاری ان عناصر کو فراہم کر رہا ہے جو پاکستان میں داخل ہو کر معصوم شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افواج کے افسران و جوانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی سے خوفزدہ افغانستان نے قطر کا دروازہ کھٹکھٹا لیا
عطا تارڑ نے کہا کہ حال ہی میں دارالحکومت میں 2 بڑے حملے دیکھنے میں آئے، جن میں ایک امام بارگاہ پر اور دوسرا ضلعی کورٹس پر کیا گیا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ کرنل گل فراز احمد کی شہادت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین نہ صرف استعمال ہو رہی ہے بلکہ افغان طالبان حکومت ان دہشتگردوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگ اور ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشن اور پاکستان کی جانب سے دیے گئے مؤثر جواب پر تفصیلی بریفنگ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: روس کا افغانستان اور پاکستان سے جھڑپیں روکنے کا مطالبہ، ثالثی کی پیشکش
وزیر اطلاعات نے افغان طالبان حکومت کو ایک جابرانہ نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت خواتین، اقلیتوں اور بچوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہے اور افغانستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کر چکی ہے۔ ان کے بقول یہ ایک غیر قانونی حکومت ہے جو جبر اور مذہب کی غلط تشریح پر مبنی ہے، اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ امن پر یقین نہیں رکھتے۔
عطا تارڑ نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ’ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔‘













