پاکستانی شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

ہفتہ 28 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو ایران کے لیے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حفاظت اور سیکیورٹی کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایران میں غیر ضروری سرگرمیوں سے اجتناب کریں اور زیادہ محتاط رہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا، تہران، کرمان، قم اور اصفہان میں شدید دھماکے

ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ مقامی حالات پر نظر رکھیں، غیر ضروری سفر کم سے کم کریں، اور پاکستانی سفارتخانوں سے باقاعدہ رابطے میں رہیں۔ متعلقہ رابطے درج ذیل ہیں:

تہران:
+98-21-66-9413-88/89/90/91
+98-21-66-9448-88/90
+98 990 6824496

زاہدان:
+98 54 33 22 3389
+98 90 46 145412

مشہد:
+98 910 762 5302
+98 937 180 7175
+98 902 709 3994

مزید پڑھیں: ایران پر ممکنہ حملہ: امریکا نے اسرائیل میں سفارتخانے کے عملے کو فوری انخلا کی ہدایت دی

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے آج صبح ایران کے دارالحکومت تہران پر متعدد میزائل حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں کشید گی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لبنان جنگ بندی، مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہترین سپہ سالار، قریبی دوست ہیں، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟