وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام سے متعلق بیان پر حکومت اور اپوزیشن سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ بعض رہنماؤں نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا، جبکہ دیگر نے آئینی طریقہ کار، صوبائی خودمختاری اور متعلقہ عوام کی رضامندی کو ناگزیر قرار دیا۔
وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے محسن نقوی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ وہ کئی برسوں سے نئے صوبوں کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس سے وفاق مزید مضبوط ہوگا، گورننس بہتر ہوگی اور عوام کو سہولت ملے گی۔
مزید پڑھیں: مجھے محسن نقوی کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، اگر وہ چاہیں تو نئے صوبے بن جائیں گے، مفتاح اسماعیل
انہوں نے کہاکہ محسن نقوی نے درست بات کی ہے اور نئے صوبے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہی قائم ہوں گے۔
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بھی نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے موجودہ صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کی آبادی دنیا کے 172 ممالک سے زیادہ جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان بھی کئی ممالک سے بڑے ہیں، اس لیے بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کسی سیاسی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے ناگزیر ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے تجویز دی کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو انتظامی بنیادوں پر شمال، وسط اور جنوب کے تین، تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ملک میں مجموعی طور پر 12 انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہاکہ اس سے صوبوں کی تاریخی اور ثقافتی شناخت برقرار رہے گی جبکہ عوام کو معمولی سرکاری امور کے لیے بھی طویل فاصلے طے نہیں کرنا پڑیں گے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں پر بحث شروع ہونا خوش آئند ہے، تاہم اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان پارلیمنٹ اور سینیٹ میں تفصیلی بحث اور اتفاق رائے ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت اور ریاستی ادارے پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک ہی صفحے پر ہیں اور اس بحث سے دونوں کے درمیان کسی قسم کا تناؤ پیدا نہیں ہوا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔ ان کے مطابق جنوبی پنجاب کی محرومیوں، غربت اور پسماندگی کا حل الگ صوبہ ہے اور نئے صوبے آبادی کی بنیاد پر بننے چاہییں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہاکہ کسی ایک فرد کی رائے کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا اور کسی صوبے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اگر کسی علاقے کے عوام خود تبدیلی نہیں چاہتے تو باہر کے لوگوں کو ان پر اپنی رائے مسلط کرنے کا حق نہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی انتظامی تبدیلی پر متعلقہ عوام کی خواہش کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی قرارداد پنجاب اسمبلی دو تہائی اکثریت سے منظور کر چکی ہے، اس لیے اگر حکومت نئے صوبوں کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو آئین کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بھی دو تہائی اکثریت حاصل کرے۔
انہوں نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ سندھ ہزاروں سال پرانی تہذیب، ثقافت اور تاریخی شناخت کا حامل صوبہ ہے، جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نثار کھوڑو نے کہاکہ نئے صوبوں سے متعلق غیر آئینی بیانات دینے والوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار موجود ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔
ان کے مطابق پنجاب اسمبلی جنوبی پنجاب سے متعلق قرارداد منظور کر چکی ہے، لیکن سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں۔
سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہاکہ نئے صوبوں کی بحث نے ایک غیر ضروری اور حساس معاملہ چھیڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں گورننس کے مسائل کی وجہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کا ارتکاز، آئینی خلاف ورزیاں، غیر شفاف انتخابات، پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنا اور صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان مختلف وفاقی اکائیوں کے الحاق سے وجود میں آیا، اس لیے تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم صوبوں کو محض انتظامی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ نئے صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، تاہم دیکھنا ہوگا کہ ملک موجودہ حالات میں اس کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہاکہ محسن نقوی وزیراعظم کی مشاورت کے بغیر ایسی بات نہیں کر سکتے، تاہم نئے صوبے بنانا آسان عمل نہیں اور بعض اوقات ایسے موضوعات ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی سامنے لائے جاتے ہیں۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہاکہ صوبہ ہزارہ کے قیام کی تحریک 2010 سے جاری ہے اور خیبرپختونخوا اسمبلی 2014، 2018 اور 2020 میں اس حوالے سے تین قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی متعلقہ بل پیش کیے جا چکے ہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس سے گورننس، ترقیاتی کاموں اور ریونیو وصولی میں نمایاں بہتری آئےگی۔
مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ بعض رہنما انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کو بہتر حکمرانی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر رہنما اس معاملے میں آئین، پارلیمانی اتفاق رائے، متعلقہ صوبوں کی منظوری اور وفاقی اکائیوں کی تاریخی و ثقافتی شناخت کو بنیادی شرط قرار دے رہے ہیں۔













