ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ اس صورتحال نے یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی راستوں کو شدید متاثر کیا ہے اور دنیا بھر کی بڑی فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ، معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑا ہے۔
فضائی حدود بند کرنے والے ممالک میں ایران، اسرائیل، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور شام شامل ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی فضائی کمپنیاں متاثر
امارات ایئرلائن نے دبئی ہوائی اڈے سے اپنی پروازیں معطل کر دیں، جبکہ فلائی دبئی کی سروسز بھی فضائی حدود کی بندش سے متاثر ہوئیں۔ قطر ایئرویز نے عارضی طور پر پروازیں روک دیں، اور عمان ایئر نے بغداد کے لیے پروازیں معطل کر دیں۔ کویت ایئرویز نے ایران کے لیے تمام پروازیں بند کر دیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر روک دیں۔
Air Arabia flight 3L441 back on ground in Abu Dhabi, after a 5h 45min flight to nowhere, because of the Iran airspace closure. pic.twitter.com/NPypjRFO2v
— Flightradar24 (@flightradar24) February 28, 2026
ترک ایئرلائنز اور دیگر ترک فضائی کمپنیوں نے ایران، عراق، شام، لبنان، اردن، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دیں۔
یورپی فضائی کمپنیوں کے اقدامات
جرمن، فرانسیسی، برطانوی اور نیدرلینڈز کی بڑی فضائی کمپنیوں نے تل ابیب، دبئی، بیروت، ریاض اور دیگر شہروں کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دیں، جبکہ بعض پروازوں کو دورانِ سفر واپس موڑنا پڑا۔
ایشیائی فضائی کمپنیاں بھی متاثر
بھارت کی قومی فضائی کمپنی نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں اور دہلی سے تل ابیب جانے والی پرواز کا رخ موڑ دیا۔ جاپان کی قومی فضائی کمپنی نے ٹوکیو سے دوحہ کی سروس منسوخ کر دی، جبکہ دیگر بھارتی فضائی کمپنیوں نے بھی ممکنہ خلل سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی امریکا اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی، ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کا اعلان
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش سے عالمی فضائی نظام میں شدید خلل پیدا ہوا ہے اور مسافروں کو طویل تاخیر اور منسوخیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صورتحال کے پیشِ نظر فضائی کمپنیاں مسلسل اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔













