پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2 مارچ کو صبح ساڑھے 10 بجے منعقد ہوگا، جس سے صدر مملکت آصف علی زرداری خطاب کریں گے۔
مزید پڑھیں: صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا نیا وقت مقرر کر دیا
سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور مشترکہ اجلاس کے موقع پر غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی ہوگی۔
میڈیا کوریج کے حوالے سے قومی اسمبلی نے واضح کیا ہے کہ تمام کیمرہ مین صرف ایک نمبر گیٹ پر قائم میڈیا سینٹر کے اندر ہی کام کر سکیں گے، اور وہاں کے باہر کسی کو بھی کیمرہ استعمال کرنے یا ویڈیو کی اجازت نہیں ہوگی۔
میڈیا سینٹر ایک نمبر گیٹ پر پی آر اے کے اصرار پر بنایا گیا ہے تاکہ کیمرہ مین اور رپورٹرز کے لیے بیٹھنے اور کام کرنے کی جگہ میسر ہو، جبکہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر میڈیا سینٹر کے باہر کسی کو کوریج کی اجازت نہیں ہوگی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں بھی کسی کو ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ الیکٹرانک میڈیا کے بیٹ رپورٹرز سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ادارے کے لیٹر ہیڈ پر صرف ایک کیمرہ مین کا نام اور شناختی کارڈ نمبر درج کرکے بھیج دیں تاکہ کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید برآں قومی اسمبلی کے 3 مارچ 2026 سے شروع ہونے والے معمول کے اجلاسوں میں کیمرہ مین اور پوائنٹ آف آرڈر کرنے والے رپورٹرز کی انٹری نئی لسٹ کے مطابق ہوگی اور پرانی تمام لسٹیں منسوخ کردی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن اراکین کا دوبارہ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ
میڈیا اداروں کو درخواست ہے کہ 2 کیمرہ مین اور ایک رپورٹر کے نام اور شناختی کارڈ نمبر جلد از جلد وٹس ایپ کے ذریعے ارسال کریں تاکہ نئے اجلاس کے انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔














