ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا مجوزہ دورہ روس مؤخر کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: خامنہ ای کی شہادت پر احتجاج: مظاہرین کے احساسات کو سمجھا جائے، مریم نواز کی انتظامیہ کو ہدایت
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بھی ماسکو جانا تھا، تاہم ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر یہ دورہ فی الحال ممکن نہیں رہا۔ پاکستان کی جانب سے روسی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ادھر وزیراعظم نے خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر غور کے لیے ایک اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے، جہاں افغانستان، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور موجودہ حالات میں پاکستان کی پالیسی پر مشاورت ہوگی۔
مزید پڑھیں: ایران: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید، ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان
مزید بتایا گیا ہے کہ آئندہ دنوں میں پاکستان اپنے مؤقف سے متعلق باقاعدہ گائیڈ لائن بھی ترتیب دے گا۔














