’ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں حد سے زیادہ قدم اٹھا لیا‘

اتوار 1 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق پینٹاگون سیکیورٹی پالیسی تجزیہ کار مائیکل مالوف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملے ایران پر کسی فوری حکومت تبدیلی کا سبب نہیں بنیں گے اور یہ ایک وسیع جغرافیائی سیاسی تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔

مالوف نے RT کو بتایا کہ واشنگٹن اور مغربی یروشلم نے ایران پر ’روک تھام کے لیے‘ حملہ کیا، جو اس وقت ہوا جب ایٹمی مذاکرات ناکام رہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:علی خامنہ ای کی شہادت، ایران نے امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن پربیلسٹک میزائلوں سے حملہ کردیا

مالوف نے کہا کہ حملے کا وقت ممکنہ طور پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے 12 فروری کو مارا-لاگو دورے کے دوران طے پایا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کیا۔

مالوف کے مطابق امریکا ہمیشہ اسرائیل کے ایجنڈے پر عمل کرتا رہا ہے۔ نیتن یاہو بنیادی طور پر ٹرمپ کو کنٹرول کرتا ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کے وژن ’ایک بڑا اسرائیل جو تمام عرب ممالک کو شامل کرے‘ کے مطابق حکمت عملی اپنائی ہے۔

مالوف نے خبردار کیا کہ ایران میں حکومت تبدیل کرنا بہت مشکل ہوگا، حتیٰ کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد بھی اسلامی انقلاب گارڈ کور ایران کو ایک مربوط قومی ریاست کے طور پر قائم رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے ایران کی ایٹمی یا میزائل صلاحیت سے آگے بڑھ کر ایک وسیع اسٹریٹجک تصادم کا حصہ ہیں، اور اس میں روس اور چین کے ساتھ تعلقات بھی شامل ہیں۔ مالوف نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹرمپ نے اس معاملے میں جو قدم اٹھایا، وہ اس سے زیادہ ہے جسے وہ سنبھال سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:خامنہ ای کے بعد امریکا اب ایران کیساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے بہتر پوزیشن میں ہے، ٹرمپ

مالوف نے عالمی اقتصادی اثرات کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ حملے پوری اقتصادی دنیا کے نظام کو ایک رات میں متاثر کر سکتے ہیں۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے، لیکن اسے روکنا مشکل ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین کا سیاسی نظام عوامی فلاح پر مرکوز، جدیدیت کے فوائد عوام تک پہنچیں گے، مشاہد حسین سید

وائرڈ ہیڈفون: وائرلیس دور میں پرانی تکنیک کی واپسی

بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، وزیر قانون

گوگل ڈاکس، شیٹس اور سلائیڈز میں جیمینی کے ذریعے خودکار مواد کی تیاری ممکن

مکیش امبانی امریکا میں 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

ویڈیو

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کررہی ہے؟ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن روبینہ اعوان کا خصوصی انٹرویو

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پرانی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بنانے کا رجحان بڑھ گیا

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے