اسرائیل اور ایران کے درمیان شدت اختیار کرتے تنازع کے باعث ایک بار پھر آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ عمان اور ایران کے درمیان واقع یہ 33 کلومیٹر چوڑی آبی گزرگاہ دنیا کی یومیہ تیل رسد کا تقریباً 20 فیصد راستہ فراہم کرتی ہے، جس کے باعث اس کی ممکنہ بندش عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔
اتوار کو عمان میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر نے اطلاع دی کہ پالاﺅ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ‘اسکائی لائٹ’ کو مسندم کے خصب بندرگاہ کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے 4 افراد زخمی ہوئے۔ جہاز پر موجود 20 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں جہاز رانی اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز: امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت
عالمی شپنگ ادارے لائیڈز لسٹ کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر خبردار کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض بڑی تجارتی کمپنیوں نے اس راستے سے ترسیل عارضی طور پر روک دی ہے۔ برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بھی الیکٹرانک مداخلت اور نیوی گیشن سسٹمز میں ممکنہ خلل کا انتباہ جاری کیا ہے۔

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور دنیا کی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا 5واں حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اس تیل کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے، جن میں چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا نمایاں خریدار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ، دنیا پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، عالمی افراطِ زر میں تیزی اور سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ 2019 میں سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی عالمی منڈی شدید متاثر ہوئی تھی۔
مبصرین کے مطابق عالمی طاقتوں کا بنیادی مفاد اسی میں ہے کہ اس نہایت اہم آبی گزرگاہ کو ہر صورت کھلا رکھا جائے، کیونکہ اس کی بندش عالمی معاشی استحکام کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوسکتی ہے۔














