آزاد کشمیر میں صحافیوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

منگل 3 مارچ 2026
author image

صائمہ اشرف

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں گزشتہ سال کے دوران صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات اورقانونی تبدیلیوں نے خطے میں آزادیِ اظہاراور حکومتی طرزِ حکمرانی پر گہری بحث چھیڑ دی تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 505 کا اصل مقصد عوام کو تشدد یا بغاوت پر اکسانے سے روکنا تھا، تاہم 2024 کی ترمیم کے بعد اس دفعہ کو ریاستی اداروں اور حکومتی عہدیداروں پر تنقید کے خلاف استعمال کرنے کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔

دفعہ 505 کی توسیع اور سخت قانونی ماحول

فوجداری ضابطہ 1860 کی دفعہ 505، جو برطانوی نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے، آزاد کشمیر میں اُس وقت زیادہ طاقتور ہوگئی جب ستمبر 2024 میں وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی مخلوط حکومت نے اس میں ترمیم منظور کی۔

اس ترمیم کے ذریعے ’کمیونٹی‘ کی تعریف میں صدر، وزیر اعظم، وزرا، سرکاری افسران اور حکومتی اداروں کو شامل کرکے تنقید کے دائرے کو جرم میں بدل دیا گیا۔ دیگر الفاظ میں، سرکاری اہلکاروں پر کی جانے والی تنقید بھی ’اکسانے‘،’نفرت‘ یا ’عوامی بدامنی‘ کے تحت سزا کے قابل بن گئی۔

دلچسپ امر یہ تھا کہ یہ ترمیم پی ٹی آئی (فارورڈ بلاک)، مسلم لیگ ن، اور پیپلز پارٹی،  تینوں حریف جماعتوں کی مشترکہ تائید سے منظور ہوئی، اور قائمہ کمیٹی کے تمام حکومتی و اپوزیشن ارکان نے اسے متفقہ طور پر آگے بڑھایا۔

 ناقدین کے مطابق یہ اتفاق اس بات کا ثبوت تھا کہ حکمران طبقہ عوامی تحریکوں، تنقید اور بڑھتے سوالات سے خائف ہو کر ریاستی کنٹرول مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔

روزنامہ جموں اینڈ کشمیر کے خلاف ہائی پروفائل مقدمہ  2025 میں آزاد کشمیر سے سب زیادہ توجہ حاصل کرنے والا مقدمہ مظفرآباد کے نمایاں روزنامے جموں اینڈ کشمیر کے خلاف درج ہوا۔

 6 اپریل 2025 کو حکومتِ آزاد کشمیر نے چیف ایڈیٹر عامر محبوب، ایڈیٹر راجہ کفیل، اور شہزاد احمد سمیت پوری انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے 26 مارچ 2025 کی ایڈیشن میں پارلیمانی رینجر فورس کے قیام سے متعلق ’جعلی خبر‘ شائع کی اور ’منفی پروپیگنڈا‘ پھیلایا۔

یہ ایف آئی آر 28 مارچ کو اس وقت کے وزیر اعظم انوار الحق اور وزیر داخلہ وقار نور کی ہدایت پر درج ہوا تھا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اخبار نے کابینہ کے فیصلے کو غلط انداز میں پیش کرکے عوام میں بداعتمادی پھیلائی اور سیکریٹریٹ پولیس پر غیر ضروری تنقید کی۔

 یہ ایف آئی آر دفعات 500، 501، 504 اور 505 کے تحت درج ہوئی۔ یعنی ہتکِ عزت، اشتعال انگیزی، اور عوامی بدامنی کی دفعات کا مجموعہ ہے۔

بعد ازاں PFUJ نے  15 اور 16 اپریل 2025 کو پریس فریڈم مارچ اسلام آباد سے مظفرآباد تک نکالا جس کے بعد روزنامہ  جموں اینڈ کشمیر پر درج  ایف آئی آر ہائی کورٹ سے سسپنڈ کروائی تھی تاہم وہ ایف آئی آر تاحال موجود ہے۔

روزنامہ جموں و کشمیر کے چیف ایڈیٹر عامر محبوب کے مطابق ایف آئی آر ایک غلط فہمی کی بنیاد پر درج کی گئی، حالانکہ اخبار وضاحت شائع کرچکا تھا۔

 ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر خبر کی ذمہ داری چند متعلقہ افراد تک محدود ہوتی ہے مگر یہ اپنی نوعیت کی منفرد ایف آئی آر تھی اس کیس میں پورے ادارے کو نامزد کرنا اور دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی۔

ان کے مطابق دفعہ 505 کے تحت کارروائی نے آزادیِ صحافت کو متاثر کیا اور صحافیوں میں خوف کی فضا پیدا کی جبکہ معلومات تک رسائی بھی محدود کر دی گئی جس سے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا مزید مشکل ہو گیا۔

نیلم کے صحافی عثمان طارق چغتائی سوشل میڈیا کے استعمال پر مقدمہ اور ریاستی نگرانی

3 مارچ 2025 کو وادیِ نیلم کے صحافی عثمان طارق چغتائی کے خلاف تھانہ آٹھ مقام میں ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسے پوسٹس شیئر کیے جو ریاستی اداروں کے خلاف ’اکسانے‘ کے مترادف تھے۔

عثمان نے ضمانت حاصل کر لی، مگر 2026 تک ان کے خلاف مقدمہ بدستور زیرِ سماعت ہے۔ عثمان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا مواد کو بنیاد بنا کر مقدمات درج کرنا تحقیقاتی صحافت کو دبانے کی حکمتِ عملی ہے۔

ان کے مطابق یہ ایف آئی آر ان کی صحافتی تحقیقات کو روکنے کی ایک منصوبہ بند کوشش تھی۔

سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل پہلا بڑا اشارہ

دفعہ 505 کا استعمال اگرچہ 2025 میں نمایاں ہوا، مگر اظہارِ رائے پر دباؤ بڑھانے کے عملی اقدامات اس سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے۔ 2024 میں حکومتِ آزاد کشمیر نے ایک سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کیا جسے بظاہر’فیک نیوز‘ کی نگرانی کا اختیار دیا گیا تھا۔ 2024 میں حکومتِ آزاد کشمیر نے ایک سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کیا تھا جس کا مقصد بظاہر فیک نیوز کے خلاف کارروائی کرنا تھا، مگر اپریل میں یہ معاملہ اُس وقت مشکوک ہو گیا جب وزیر خزانہ عبدالمجید خان نے اس سیل کو استعمال کرتے ہوئے 2 صحافیوں( وقاص کاظمی اور راجہ خالد) کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔

 خط میں الزام تھا کہ دونوں صحافیوں نے ’قابلِ اعتراض پروگرام‘ نشر کیے اور ’من گھڑت الزامات‘ عائد کیے۔ صحافتی برادری کے شدید ردعمل کے بعد حکومت نے یہ سیل خاموشی سے غیر فعال کر دیا، مگر یہ واضح نہ ہو سکا کہ یہ سیل کس قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا۔

اسی پس منظر میں حکومت 2023 اور 2024 میں ایک سخت گیر ہتکِ عزت کا قانون بھی اسمبلی میں لانے کی کوشش کرتی رہی۔ اس مسودے کے مطابق صحافی پر الزام ثابت کرنا مدعی کی ذمہ داری نہیں بلکہ صحافی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑتی، جو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔

صحافتی تنظیموں کے شدید احتجاج کے بعد یہ بل منظور نہ ہو سکا، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اس بل کا مقصد تنقید کو محدود کرنے کے اس وسیع تر رجحان کو تقویت دینا تھا، جس کا عملی اظہار بعد میں دفعہ 505 کے استعمال کی صورت میں ہوا۔

حکومتی مؤقف اور صحافتی ردِعمل

آزاد کشمیر کے سابق وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید شاہ نے صحافیوں میں پائے جانے والے خدشات کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت تنقید پر پابندی نہیں بلکہ اکسانے پر پابندی ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت یا اداروں کے خلاف عوام کو اکسایا جائے تو قانون حرکت میں آئے گا اور اس کا غلط استعمال نہیں ہوگا۔

تاہم صحافی، تجزیہ کار اور قانونی ماہرین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ بی بی سی کے سابق نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق یہ ایک خطرناک قانون ہے کیونکہ معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے صحافیوں کے لیے اپنی خبروں کی صداقت ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے بقول،’لارڈ کننگ بھی اپنی قبر میں کروٹ لے رہا ہوگا۔‘

مظفرآباد کے صحافی راجہ خالد کا کہنا ہے کہ بدعنوانی، اقربہ پروری اور بری حکمرانی پر کبھی سیاستدانوں کو سنجیدگی سے چیلنج نہیں کیا گیا، تاہم حالیہ عوامی تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کے بعد حکمرانوں نے تنقید کو دبانے کے لیے قانون سازی کا سہارا لیا۔

 خالد بتاتے ہیں کہ اس برطانوی  نو آبادیاتی دور کی  قانونی ترمیم کے بعد کوئی بھی صحافی حکومتی پالیسیوں یا عہدیداروں پر تنقید کرتے وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے تاہم حکومت کی جانب سے اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کوئی واضح مانیٹرنگ میکنزم یا شفاف طریقۂ کار تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

صحافی شاہ زیب افضل کے مطابق یہ ترمیم حکومتی عہدیداروں پر تنقید کو سماجی ہم آہنگی کے نام پر جرم بنانے کا راستہ ہموار کرتی ہے، جس سے خود سنسرشپ بڑھے گی اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچے گا۔

نتیجہ: اختلافِ رائے کا مستقبل غیر یقینی

2025  میں درج ہونے والے مقدمات اب 2026 میں بھی صحافتی ماحول پر گہرے اثرات چھوڑ رہے ہیں۔ نوآبادیاتی قوانین کی سخت تشریحات، سوشل میڈیا پر نگرانی، معلومات تک رسائی کے فقدان اور قانونی کارروائیوں کے خوف نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں صحافی خود سینسرشپ کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رجحانات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے جرم بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے، اور یہی صورت حال خطے میں جمہوری اقدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ کا 4 ممالک کے طلبا کے لیے اسٹڈی ویزے بند کرنے کا اعلان، وجہ کیا بنی؟

سابق کپتان سرفراز احمد کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ کوچ بنانے کا فیصلہ، حتمی اعلان جلد متوقع

حمداللہ فطرت کے بے بنیاد دعوے، طالبان کی مبالغہ آمیز ہلاکتیں اور جعلی مظلومیت بے نقاب

’وعدہ صادق 4’ کے پہلے 2 دنوں میں 650 امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، پاسداران انقلاب کا دعویٰ

پاکستان کا افغان طالبان کو منہ توڑ جواب، بگرام ایئربیس پر کامیاب فضائی حملہ

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے

کیا مسلم دنیا مغربی ڈس انفارمیشن کا شکار ہو رہی ہے؟