بھارت اور اسرائیل کی حالیہ پالیسیوں پر عالمی سطح پر تنقید سامنے آ گئی ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کے مطابق اسرائیلی اقدامات کی کھلی حمایت نے بھارت کی غیر جانبداری سے متعلق دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے گزشتہ ہفتے اسرائیل کے دورے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس دورے سے خطے میں جاری بحران کے حوالے سے بھارت کا مؤقف واضح طور پر ایک جانب جھکتا دکھائی دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی، اڈانی اور اسرائیل کا خفیہ اتحاد کیسے بے نقاب ہوا؟
عالمی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ مودی کے دورے نے ایران پر فضائی حملوں کی تائید کا تاثر پیدا کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ایران سے متعلق حکومتی ردِعمل بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کے منافی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھارتی معیشت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً توانائی کی قیمتوں اور تجارتی توازن پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق ایران پر حملوں یا کشیدگی میں اضافے کی صورت میں بھارت کو تیل کی قیمتوں میں اضافے اور تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ امن معاہدہ: اسرائیلی اجلاس کے دوران نیتن یاہو کا مودی سے رابطہ
عالمی جریدے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے مسلم اکثریتی خطے میں تشدد اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں طاقت کے بڑھتے استعمال اور سخت سفارتی مؤقف نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔














