آسٹریلیا کی معروف سپر مارکیٹ چین وول ورتھس کو اپنے اے آئی کسٹمر اسسٹنٹ اولیو کی اسکرپٹنگ تبدیل کرنی پڑی جب صارفین نے شکایت کی کہ چیٹ بوٹ خود کو انسان ظاہر کرتا ہے اور یہاں تک کہ اپنی ماں کی یادوں کا ذکر بھی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے
کمپنی کے مطابق صارفین کی آرا کے بعد اولیو کے بعض مکالمے ہٹا دیے گئے ہیں، اگرچہ بیشتر صارفین نے اس کی شخصیت کو مثبت قرار دیا تھا۔
صارفین کی شکایات کیا تھیں؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈ اٹ پر متعدد صارفین نے بتایا کہ چیٹ بوٹ غیر ضروری گفتگو میں الجھ جاتا تھا۔

ایک صارف نے لکھا کہ جب اس نے اپنی تاریخ پیدائش درج کی تو اولیو نے جواب دیا کہ اس کی ماں بھی اسی سال پیدا ہوئی تھی اور پھر طویل باتیں شروع کر دیں۔
مزید پڑھیے: اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال
ایک اور صارف نے کہا کہ جعلی دوستانہ انداز اسے ناگوار گزرا اور وقت کا ضیاع محسوس ہوا۔
ایکس پر پر بھی ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ اولیو خود کو حقیقی انسان ظاہر کر رہا تھا اور اپنی ماں کی غصے بھری آواز کا ذکر کر رہا تھا۔
کمپنی کا مؤقف
وول ورتھس کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ سالگرہ سے متعلق مخصوص جوابات دراصل کئی برس قبل ایک انسانی ٹیم ممبر نے تحریر کیے تھے تاکہ صارفین سے زیادہ ذاتی انداز میں رابطہ قائم کیا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق اولیو سنہ 2018 سے استعمال ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر صارفین کی رائے مثبت رہی ہے تاہم حالیہ فیڈبیک کے بعد متنازع اسکرپٹنگ ہٹا دی گئی ہے۔
اے آئی اسسٹنٹس کا بڑھتا رجحان
دنیا بھر میں بڑے ریٹیل ادارے صارفین کی رہنمائی اور معمول کے سوالات کے فوری حل کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس متعارف کرا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 80 فیصد کسٹمر سروس رہنما ادارے اے آئی ایجنٹس کو آزما رہے ہیں لیکن صرف 20 فیصد منصوبے توقعات پر پورا اتر پاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی بڑے ڈیٹا سے معلومات نکالنے میں مددگار ہے مگر جب اسے اصل یا تخلیقی جوابات دینے ہوں تو یہ بعض اوقات غیر متوقع یا عجیب رویہ اختیار کر لیتا ہے جسے تکنیکی زبان میں ہیلوسینیشن کہا جاتا ہے۔
ماضی کی مثال
سنہ 2024 میں ڈیلیوری کمپنی ڈی پی ڈی کو بھی اپنا آن لائن چیٹ بوٹ عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا جب وہ صارفین سے بحث کرنے، شاعری لکھنے اور نامناسب زبان استعمال کرنے لگا تھا۔
مزید پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
ماہرین کے مطابق کمپنیاں اے آئی کو زیادہ ’انسانی‘ بنانے کی کوشش میں بعض اوقات حد سے آگے بڑھ جاتی ہیں جس سے صارفین کو مصنوعی پن اور بناوٹ کا احساس ہوتا ہے۔














