ایران کے صوبہ کرمانشاہ کے گاؤں سرابیلہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں5 شہری شہید ہوگئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ نے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ شروع نہیں کی، بلکہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد کی جانے والی کارروائیوں کے جواب میں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا تباہ کن جوابی حملوں کا اعلان، 27 امریکی، متعدد اسرائیلی تنصیبات پر ایک ساتھ حملہ
انہوں نے ایران کے مبینہ حمایت یافتہ پراکسی گروپس اور عراق میں بارودی مواد کے ذریعے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا حوالہ دیا۔
امریکی حکام کے مطابق حملوں کے اہداف ایران کی بحری اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنانا ہیں۔ امریکی فوج نے اس فضائی کارروائی کو کامیاب قرار دیا، تاہم اس کارروائی کے خاتمے کی مدت واضح نہیں۔
پیٹ ہیگ سیٹھ کے مطابق صدر ٹرمپ نے 4 ہفتے تک جاری رہنے کی تجویز دی، جبکہ وزیر دفاع نے کسی مخصوص مدت کا عندیہ دینے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ ’لامتناہی جنگ‘ نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا حملہ: اسرائیلی دفاعی نظام ناکام اور متعدد حساس تنصیبات کو نقصان پہنچا، برطانوی میڈیا کی تصدیق
امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ حملوں کے دباؤ سے ایران میں داخلی بے چینی یا سیاسی تبدیلی کی توقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی تبدیلی کے لیے فضائی کارروائیوں کے بجائے بڑی زمینی فوج کی ضرورت ہوگی، جس میں لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
ایران میں اپوزیشن گروپس غیر مسلح ہیں اور حالیہ مظاہروں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جس سے مزید کریک ڈاؤن کے خدشات ہیں۔













