ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہونے کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی میڈیا ادارے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محمود احمدی نژاد ایران پر اسرائیلی فوج کے حملے میں مارے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ اس وقت مبینہ طور پر نظر بندی میں تھے اور ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید، ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان
محمود احمدی نژاد ایران کے چھٹے صدر رہے اور 2005 سے 2013 تک اقتدار میں رہے۔ وہ تہران کے میئر کی حیثیت سے سیاست میں ابھرے اور 2005 کے صدارتی انتخاب میں اکبر ہاشمی رفسنجانی کو شکست دے کر غیر متوقع کامیابی حاصل کی۔
2009 میں ان کے متنازع دوبارہ انتخاب کے بعد ایران میں گرین موومنٹ کے نام سے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا تھا، جسے اسلامی جمہوریہ ایران کے بڑے داخلی بحرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کے دور حکومت میں ایران کے جوہری پروگرام کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر متعدد پابندیاں عائد کیں جس سے ایران کو عالمی سطح پر معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں صدارتی امیدواروں کا اعلان، احمدی نژاد ایک مرتبہ پھر دوڑ سے باہر
احمدی نژاد اپنے سخت بیانات اور اسرائیل مخالف مؤقف کے باعث عالمی سطح پر متنازع شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ بعد کے برسوں میں ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ اختلافات بھی سامنے آئے اور انہیں دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا، جس کے بعد وہ حکومتی حلقوں میں نسبتاً غیر مؤثر ہوگئے تھے۔














