’افطار ڈرائیو بائی کنفرم والا جنتی‘ ایک عوامی اور غیر رسمی اصطلاح ہے جو اس نیک عمل کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں لوگ مغرب کے وقت سڑکوں پر سفر کرنے والوں ڈرائیورز اور مزدوروں میں افطار پیکٹس تقسیم کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں روزہ دار کو افطار کرانا انتہائی اجر و ثواب کا باعث عمل سمجھا جاتا ہے، اسی لیے عوامی انداز میں اسے جنت کا راستہ قرار دے کر یہ جملہ بولا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان نگہبان پیکج: کیش رقم کیسے حاصل کی جائے؟ طریقہ کار سامنے آگیا
اس اقدام کا بنیادی مقصد ایسے افراد کی مدد کرنا ہے جو سفر میں ہوں، ڈیوٹی یا کام کی وجہ سے گھر نہ پہنچ سکیں یا سڑک پر ہی افطار کا وقت ہو جائے، تاکہ وہ عزت اور سہولت کے ساتھ روزہ افطار کر سکیں۔
یہ سرگرمی ہمدردی، سخاوت اور اجتماعی یکجہتی کو فروغ دیتی ہے، یہ صدقہ کی ایک عملی شکل ہے جس میں معاشرے کے مختلف طبقات ایک دوسرے کی مدد کرتے نظر آتے ہیں۔
رضاکار عام طور پر مصروف شاہراہوں، ٹریفک سگنلز یا بس اسٹاپس پر کھڑے ہو کر افطار پیکٹس تقسیم کرتے ہیں۔ ان پیکٹس میں عموماً کھجور، پانی، جوس اور ہلکی غذا جیسے سموسے یا بریانی شامل ہوتی ہے، یہ کام زیادہ تر رضاکاروں، سماجی تنظیموں یا مقامی کمیونٹی گروپس کی جانب سے کیا جاتا ہے۔
حصہ کیسے لیا جاسکتا ہے؟
مالی تعاون کے ذریعے افطار مہمات میں حصہ لیا جا سکتا ہے، رضاکار بن کر پیکنگ اور تقسیم میں مدد کی جاسکتی ہے، یا گھر پر سادہ افطار پیکٹ تیار کرکے اپنی گلی یا علاقے میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ مہم پورے زور و شور سے جاری ہے، لوگ اس عمل کی ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر شیئر بھی کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کنفرم جنتی مہم کی ایک ویڈیو نے توجہ حاصل کی ہے، جس میں رضاکار سڑکوں پر لوگوں کو افطار کرواتے اور روزہ داروں میں افطار پیکٹس تقسیم کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مغرب کے وقت ٹریفک سگنلز اور مصروف شاہراہوں پر موجود افراد، ڈرائیورز اور مزدوروں کو کھجور، پانی اور دیگر اشیائے خورونوش فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ بروقت روزہ افطار کر سکیں، اس اقدام کو سماجی خدمت اور فلاحی سرگرمی قرار دیا جارہا ہے۔
ویڈیو کا ایک حصہ سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بن گیا، جہاں کچھ افراد کو افطار کے بعد سگریٹ بھی مفت دیتے ہوئے دکھایا گیا، اس عمل پر صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض افراد نے اسے خدمتِ خلق قرار دیا جبکہ کچھ صارفین نے صحت کے حوالے سے اس اقدام پر تنقید کی۔
منتظمین کے مطابق اس مہم کا مقصد سفر یا کام کے باعث گھروں سے دور افراد کو باعزت انداز میں افطار فراہم کرنا اور معاشرے میں بھائی چارے اور مدد کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے رمضان پیکج کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی ہدایت کردی
سوشل میڈیا پر کنفرم جنتی کی اصطلاح نیکی کے جذبے کو سراہنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تاہم دینی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی کے جنتی ہونے کا حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔














