امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر ڈگلاس میک گریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے۔
ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موجودہ ایران کی حکومت اور اس کے تیل کی 50 فیصد برآمدات کے پیش نظر چین آبنائے ہرمز میں حالات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ روس اور چین اس وقت صورتحال کا بغور مشاہدہ کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران مذاکرات کے لیے تیار لیکن میں نے کہا اب دیر ہو چکی ہے، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
میک گریگر کے مطابق دونوں ممالک ایرانی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کررہے ہیں، جس نے حالیہ کامیابیوں میں خاص طور پر اسرائیل اور امریکی اڈوں پر اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے تمام اڈے اور بندرگاہی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں بھارت اور بھارتی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جو حالات کے لیے مثالی نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ہماری توقعات کے برخلاف اب تک بہت اچھا کر رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال کب تک برقرار رکھی جا سکتی ہے، کیونکہ اس میں لاجسٹکس سب سے کمزور پہلو ہے۔
میک گریگر نے کہاکہ آرمی کو دوبارہ رسد بھیجنی پڑتی ہے، سامان ہوائی یا بحری راستے سے پہنچانا پڑتا ہے۔ ایران ایک براعظمی طاقت ہے، اس کی آبادی 93 ملین ہے اور رقبے کے لحاظ سے مغربی یورپ کے برابر ہے۔ چین اور روس بھی براعظمی طاقتیں ہیں اور انہیں رسد کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ان کی صنعتی صلاحیتیں برقرار ہیں، اور ایران کے تمام صوبوں میں موجود میزائل سسٹمز اور ذخائر ابھی بھی محفوظ ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیاکہ یہ تنازع کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے اور سوال یہ ہے کہ اسرائیل کب اس پر قابو پانے کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا۔
مزید پڑھیں: حزب اللہ کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ حسین مقلد کو شہید کردیا، اسرائیل کا دعویٰ
میک گریگر نے زور دیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اسرائیل کی جانب سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں انہیں تشویش ہے۔














