پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں ملتان سلطانز کی واپسی پر ٹیم کے سابق مالک علی ترین بول پڑے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے کہاکہ وہ سات سال تک ملتان سلطانز کے ساتھ گزارے گئے سفر پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اسے بغیر کسی پچھتاوے کے ختم کر دیا۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ اسٹالینز باضابطہ طور پر ملتان سلطانز میں تبدیل، سی ڈی وینچرز نے اکثریتی حصص خرید لیے
انہوں نے کہاکہ سب سے زیادہ متاثر کن لمحہ وہ تھا جب ملتان کو لیگ سے نکال دیا گیا، جس کا اثر نہ صرف اُن پر بلکہ مداحوں اور جنوبی پنجاب کے لوگوں پر بھی بہت گہرا پڑا۔
علی ترین نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب ہمیشہ کم نمائندگی کا شکار رہا ہے، لیکن یہاں کے لوگ پُرجوش اور باصلاحیت ہیں اور ہر اس پلیٹ فارم کے مستحق ہیں جو انہیں مل سکتا ہے۔
ان کے مطابق ملتان سلطانز محض ایک کرکٹ ٹیم نہیں بلکہ پورے خطے کی شان اور پہچان کی علامت تھی۔
انہوں نے گوہر شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کی آواز بلند کی اور ملتان سلطانز کو پاکستان سپر لیگ میں واپس لایا۔ اس اقدام کے نتیجے میں شہر کو دوبارہ اپنی ٹیم ملی اور جنوبی پنجاب کو اپنی پہچان اور آواز دوبارہ حاصل ہوئی۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 میں شامل ہونے والی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کو باضابطہ طور پر ملتان سلطانز کے نام سے دوبارہ متعارف کرایا گیا ہے۔
اس تبدیلی کا اعلان پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا، جس میں فرنچائز کے مالک حمزہ مجید اور سی ڈی وینچرز کے سربراہ گوہر شاہ بھی موجود تھے۔
او زیڈ ڈیولپرز نے اسلام آباد میں ہونے والی ٹیم نیلامی کے دوران سیالکوٹ اسٹالینز کی فرنچائز 10 سال کے لیے 185 کروڑ روپے میں حاصل کی تھی۔
مزید پڑھیں: ملتان سلطانز 2 ارب 45 کروڑ روپے میں فروخت، خریدار ولی ٹیک نے ٹیم کا نام راولپنڈی رکھنے کا اعلان کردیا
تاہم اب اس نے سی ڈی وینچرز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کر لی ہے۔ اس شراکت داری کے تحت گوہر شاہ کو فرنچائز کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا اور ٹیم کا نام تبدیل کرکے ملتان سلطانز رکھا گیا۔














