اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا نیٹ ورک جسے طویل عرصے سے اسرائیل کے خلاف علاقائی دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا نمایاں طور پر کمزور ہو چکا ہے اور اب اس کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے جس سے خطے کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قطر ایران کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں، ترجمان وزارت خارجہ
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 2024 کی جنگ کے بعد لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری اور شام کے حکمران بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے نے اسرائیل کے لیے ایران کو براہ راست نشانہ بنانے کی راہ ہموار کی۔
ایک سینیئر ریسرچ فیلو ریناد منصور کے مطابق اس محور کے بیشتر ارکان جیسے لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی اور عراق کے مسلح گروہ اس وقت یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کیسے زندہ رہیں۔
منصور کے مطابق ان گروہوں کے پاس اس وقت نمایاں نقصان پہنچانے کی ضروری عسکری صلاحیت موجود نہیں جبکہ کچھ نمایاں گروہ اب عراقی ریاستی ڈھانچے کے ساتھ گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثی باغیوں نے اب تک ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں میں براہ راست شمولیت اختیار نہیں کی۔
مزید پڑھیے: امریکی بحریہ ایران کیخلاف کارروائی کے لیے بھارتی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی ہے، سابق مشیر امریکی وزارت دفاع
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے سینیئر تجزیہ کار احمد ناجی کے مطابق حوثی اس وقت محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں یا دفاعی انداز اپنائے ہوئے ہیں۔
تاہم احمد ناجی کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ محور وجودی خطرے سے دوچار ہے لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ یہ مکمل طور پر بکھر جائے گا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے غزہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، وزیر دفاع خواجہ آصف
ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا ایران کا علاقائی اثر و رسوخ برقرار رہتا ہے یا خطے میں ایک نیا توازن جنم لیتا ہے۔














