افغانستان میں خواتین اور بچوں کو کوڑے مارے جانے جیسی سزائیں، اقوام متحدہ کے ماہرین نے سوال اٹھا دیا

منگل 3 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے جسمانی سزاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال، جو اکثر عوامی سطح پر اور اخلاقی جرائم کے نام پر نافذ کیا جاتا ہے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ماہرین نے کہاکہ جسمانی سزا انسانی وقار اور جسمانی سالمیت کے خلاف جرم ہے، اور اس کی شدت کے مطابق یہ ظالمانہ، غیر انسانی یا تحقیر آمیز سزا اور تشدد کے زمرے میں آتی ہے۔ اس کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، آسٹریلیا کا طالبان حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

رپورٹ کے مطابق صرف کوڑے مارنے جیسی سزاؤں کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کے مطابق 2025 میں افغانستان کی عبوری سپریم کورٹ نے کم از کم ایک ہزار 110 افراد کو کوڑوں کی سزا کا فیصلہ سنایا، جن میں 940 مرد اور 170 خواتین شامل تھیں۔ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں قریباً دوگنی ہے، جب کم از کم 567 افراد (480 مرد اور 87 خواتین) کو عوامی طور پر سزا دی گئی تھی۔

جنوری 2026 میں عبوری سپریم کورٹ نے 147 مرد اور 15 خواتین کو کوڑوں کی سزا سنائی، جو 2022 کے آخر سے رسمی طور پر اس عمل کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ ماہانہ تعداد میں سے ایک ہے۔

زیادہ تر مرد ایسے جرائم کے الزام میں سزا یافتہ ہیں جیسے چوری، منشیات یا شراب کی فروخت و استعمال، اور جوا کھیلنا۔ تاہم خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات کے جرائم پر سزاؤں کا سامنا ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ اخلاقی جرائم کے نام پر جسمانی سزا کا استعمال افغانستان میں صنفی بنیاد پر منظم امتیاز اور کنٹرول کی ایک بڑی جھلک ہے، جو بین الاقوامی ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں متاثرین کی عمر یا ذہنی و فکری صلاحیت کے بارے میں معلومات شامل نہیں، اور بچوں کو کوڑے مارے جانے کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ سزائیں طالبان حکام کی طرف سے عوامی سطح پر دی جاتی ہیں، اور مقامی باشندوں سمیت بچے بھی اس کے دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ماہرین نے کہاکہ ہم اس بات پر حیران ہیں کہ ایسے عدالتی نظام میں جسمانی سزائیں دی جا رہی ہیں جو آزاد، منصفانہ عمل یا دیگر بنیادی حفاظتی اقدامات سے خالی ہے اور متاثرین کے جائز شکوک و شکایات کو حل کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جنوری 2026 میں شائع شدہ عدالتی قوانین مزید غیر قانونی سزاؤں کے استعمال کو بڑھا سکتے ہیں۔

ماہرین نے طالبان کے اقتدار دوبارہ سنبھالنے کے بعد افغانستان میں 12 مردوں کی سزائے موت کی بھی مذمت کی اور فوری طور پر موت کی سزا پر عارضی پابندی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کے استعمال کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔

افغانستان تشدد، غیر انسانی یا تحقیر آمیز سزاؤں کے خاتمے کے معاہدے اور بین الاقوامی سول و سیاسی حقوق کے عہدنامے کا رکن ہے، جو جسمانی سزا کے استعمال کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد کے تحفظات بھی واضح ہیں۔

مزید پڑھیں: رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

ماہرین نے کہا کہ عبوری حکام افغانستان کی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کے پابند ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ بغیر منصفانہ عمل کے دی جانے والی سزائیں، جو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، انصاف نہیں کہلاتیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے افغانستان میں انسانی حقوق کے بحران پر زیادہ مؤثر آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا اور جسمانی و موت کی سزاؤں پر پابندی اور ان کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فرنس آئل پر کاربن لیوی معطلی کے لیے حکومت کا آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا امکان

پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی، قومی مفاد سے پہلے سیاسی مفاد

خامنہ ای کا جانشین بھی نشانے پر ہوگا، اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی

کون سے 6 پاکستانی کرکٹرز ’ہنڈریڈ‘ کے ٹاپ 50 ہیرو لسٹ میں شامل ہیں؟

سعودی عرب ہماری ریڈ لائن، پاکستان کا ایران کو واضح پیغام، اسحاق ڈار کا بیان سعودی اکاؤنٹس پر وائرل

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے