ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد سب سے بڑا مسلئہ ان لوگوں کو درپیش ہے جن کے پاس ویزا بھی موجود ہے ٹکٹ بھی ہے لیکن کوئی پرواز دستیاب نہیں جو ان لوگوں کو ملک سے باہر لیکر جا سکے، اس وقت پاکستان سے باہر جانے کے لیے کون کون سے روٹس فعال ہیں اور آپ کن راستوں سے یورپ یا امریکا کا سفر کر سکتے ہیں؟
اوور سیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر عدنان پراچہ نے وی نیوز کو بتایا کہ امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ میں خلیجی ممالک لپیٹ میں ہیں جس کی وجہ سے پی آئی اے کے وہ روٹس جو گلف ممالک کی طرف ہیں ان کی کنیکٹیوٹی بہت کم رہ گئی ہے، دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ یو اے ای کی طرف ہماری فلائٹس آپریشن زیادہ تھا جس میں ایمریٹس ایئر لائن، فلائی دبئی، ایئر عربیہ، اتحاد ایئرویز اور اس طرح کی بہت ساری دوسری ایئر لائنز ہیں جو کہ پاکستان سے مین پاور باہر منتقل کرتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ہفتہ وار ایئر فلائٹس کی تعداد بڑھانے کا اعلان
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے عمرہ زائرین اس وقت زیادہ متاثر ہیں کیونکہ رمضان میں ہائی سیزن ہوتا ہے اور مکہ شریف اور مدینہ شریف کے ہمارے پیکجز بک چکے ہو چکے ہیں، ہوٹلز بک ہیں لیکن اس موقع پہ فلائٹ آپریشن بند ہونے سے پیسنجرز گزشتہ 4 دن سے جو جانے والے تھے وہ اس وقت متاثر ہیں اور روزانہ ہزاروں مسافر متاثر ہو رہے ہیں۔
عدنان پراچہ کے مطابق ہماری وہ مین پاور جن کے ویزے لگے ہوئے تھے اور جن کی فلائٹس تھی وہ بھی متاثر ہیں لیکن جو اپنے گھروں میں موجود ہیں تو ان کی ٹکٹس وغیرہ چینج ہو جائیں گی اور کچھ متبادل آپشنز دیکھے جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین فلائٹس محدود پیمانے پر آپریٹ ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی فضائی حدود جزوی بند ہونے کی خبریں بے بنیاد قرار
ان کا مزید کہنا ہے کہ عمرہ زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہے، سعودیہ میں بھی جدہ اور ریاض کے لیے اور دمام کے لیے لمیٹڈ فلائٹس ہیں، کرایوں کی بات کی جائے تو اس صورت حال میں جو ٹکٹ 65 ہزار روپے کا تھا وہ 1 لاکھ 10 یا 20 ہزار روپے کا بھی نہیں مل رہا، یو اے ای، عمان، بحرین اور قطر کے تمام ایئر لائن کیریئرز اس وقت ان ہولڈ ہیں اور جس سے ایئر ایوی ایشن انڈسٹری کو خاطر خواہ نقصان ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہماری جو مین پاور ہے، جن کے ویزا لگے ہوئے ہیں اور آگے ایکسپائر ہو رہے ہیں وہ بھی پریشان ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ یورپین یا فار ایسٹ والی طرف جانے والے ہمارے جو لوگ ایمپلائمنٹ ویزے کے یا دوسرے کسی بھی ویزے پہ ہیں وہ بھی ان ہولڈ آگئے ہیں کیونکہ فلائٹس آپریشنز بند ہیں پاکستان سے صرف عمرہ زائرین جن کی ٹکٹس ڈائریکٹ فلائٹ پہ بک تھیں وہ تو جا پا رہے ہیں جن کی ٹکٹس وایا فلائٹس پہ تھی وہ تمام ان ہولڈ ہیں اور ان کے ہوٹل کے پیکجز بک ہیں۔
ترجمان پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی سیف اللہ خان نے بتایا کہ ابھی تو ظاہر ہے فلائٹس نہیں جا رہی ہیں اور پھر یہ ایئر لائنز کا اپنا اختیار اور فیصلہ ہوتا ہے ایئرپورٹس ہمارے آپریشنل اور دستیاب ہیں جو بھی جانا چاہے یہاں سے اڑنا چاہے، یعنی کہ جہاں تک ہمارے ایئرپورٹس کا تعلق ہے ہم نا صرف آپریشنل ہیں بلکہ سب کے لیے دستیاب بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، ڈھاکا اور چٹاگانگ ایئرپورٹس پر 182 بین الاقوامی پروازیں منسوخ
سینیئر صحافی طارق ابولاحسن نے بتایا کہ 28 تاریخ کو جب یہ کاروائیاں شروع ہوئی تھیں، کراچی ایئرپورٹ پر کوئی 15 کے قریب جہاز رکے تھے۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ چلے گئے ہیں، اس وقت کوئی بھی جہاز کراچی ایئرپورٹ پہ موجود نہیں ہے۔ بیچ میں جیسے جیسے ایئر اسپیس ہر ملک کی تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے کھلتی رہی ہے تو وہ سب اپنے ملکوں کو چلے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان سے جو ویسٹ بونڈ فلائٹیں ہیں یعنی یورپ امریکا جانے والی، وہ چل رہی ہیں۔ 2 گیٹ وے پاکستانیوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ ایک ترکی کے راستے جا رہے ہیں اور دوسرا ریاض کے راستے سعودی عرب کی عمرہ فلائٹس پر، کسی کو باہر جانا ہے وہ سعودی عرب اور پھر وہاں سے یورپ یا امریکا جا سکتے ہیں۔
طارق ابوالحسن کے مطابق پی آئی اے کی کینیڈا اور لندن جانے والی فلائٹس متبادل روٹس جو ایران کو نظر انداز کر کے ازبکستان وغیرہ کی طرف سے جا رہی ہیں یہ فلائٹس افغانستان اور ایران کو چھوڑ کر دوسری طرف سے جاتی ہیں تو اس لیے انہیں محفوظ سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مڈل ایسٹ کی فلائٹس ساری بند ہیں۔














