سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی تخلیق کار مسلح تنازعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کرے اور یہ واضح نہ کرے کہ وہ مصنوعی طور پر بنائی گئی ہیں تو اسے 90 دن کے لیے کریئیٹر ریونیو شیئرنگ پروگرام سے معطل کردیا جائے گا۔
یہ پالیسی تبدیلی ایکس کی انتظامیہ کی جانب سے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران معلومات کی صداقت سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق جنگ جیسے حساس حالات میں مستند معلومات تک رسائی نہایت اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت سے ویڈیو کی تخلیق، اوپن اے آئی نے سورا 2 لانچ کردیا
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نیکیٹا بیئر نے کہا کہ ’جنگ کے دوران یہ انتہائی ضروری ہے کہ لوگوں کو زمینی حقائق پر مبنی مستند معلومات تک رسائی حاصل ہو‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسا مواد تیار کرنا انتہائی آسان ہوچکا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ان اہم لمحات میں پلیٹ فارم کو قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اپنی پالیسیوں اور مصنوعات کو مزید بہتر بناتی رہے گی۔
یہ نئی پالیسی اس پلیٹ فارم کے لیے ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جارہی ہے، جسے ایلون مسک نے اکتوبر 2022 میں 44 ارب ڈالر میں خرید کر ٹوئٹر سے ری برانڈ کرتے ہوئے ایکس کا نام دیا تھا۔ مسک کی ملکیت کے بعد پلیٹ فارم کی مواد کی نگرانی سے متعلق پالیسیوں پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: 4 ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری، جائیدادیں منجمد ہونگی
نئے قواعد کے تحت بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کو کریئیٹر ریونیو شیئرنگ پروگرام سے مستقل طور پر بھی خارج کیا جاسکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اہل صارفین کو ان کی پوسٹس پر حاصل ہونے والی اشتہاری آمدنی میں سے حصہ دیا جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق خلاف ورزیوں کی نشاندہی کمیونٹی نوٹس سسٹم، میٹا ڈیٹا اور اے آئی سے تیار کردہ مواد میں موجود دیگر تکنیکی اشاروں کے ذریعے کی جائے گی۔














