طالبان کے ترجمان حمداللہ فطرت اور وزارت دفاع کے نائب ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے ’آپریشن ردّ الظلم‘ کے دوران پاکستان پر مبینہ وسیع پیمانے پر شہری ہلاکتوں اور تباہی کے دعوے کیے، لیکن یہ دعوے کسی آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا افغان طالبان کو منہ توڑ جواب، بگرام ایئربیس پر کامیاب فضائی حملہ
110 شہری ہلاکتوں اور ہزاروں بے گھر ہونے کے اعداد و شمار صرف طالبان کے چینلز سے آئے ہیں، کوئی آزاد مشاہدہ کار یا سیٹلائٹ تصدیق موجود نہیں۔ پاکستان کے حملے دہشتگرد ٹھکانوں اور سرحدی خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے، شہری علاقوں پر نہیں۔
لکه څنګه چې تاسو په جريان کې ياست د تيرې فبروي مياشتې ۲۱ چې د حوت له دريمې او روژې مبارکې مياشتې له ۴مې سره يې سمون درلود د شپې ناوخته د پاکستان فوځي رژيم په پکتیکا او د ننګرهار ولایتونو کې د ولسي خلکو کورونه بمبار کړل چې د ننګرهار بهسودو ولسوالۍ کې زموږ د يو تن مظلوم ولسي… pic.twitter.com/8H4bmYNao9
— Hamdullah Fitratحمدالله فطرت (@FitratHamd) March 3, 2026
طالبان کے دعوے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش ہیں، جبکہ حقیقت میں کراس بارڈر حملوں سے کشیدگی بڑھائی گئی۔ متعدد پاکستانی پوسٹس پر حملے کرنے کے بعد انہیں ’دفاعی‘ قرار دینا تضاد ہے۔
طالبان اور دیگر دہشتگرد گروہ افغان زمین سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن وہ ذمہ داری سے انکار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی اپیلیں وقتی اور مواقع پر مبنی ہیں، جبکہ یہ حکومت ہزاروں غیر ملکی جنگجوؤں کی میزبانی کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: یوناما کی جانب سے طالبان بیانیے کی بازگشت، دہشتگرد پناہ گاہوں پر خاموشی
ماہرین کے مطابق یہ دعوے منظم پروپیگنڈا ہیں: ہلاکتیں بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہیں، دکھ کو نمایاں کیا گیا ہے، دہشتگرد گروہوں کی ذمہ داری سے انکار کیا گیا ہے اور بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔














