بھارتی اداکارہ عائشہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر جنسی ہراسانی اور ریپ کی دھمکیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
عائشہ خان نے بتایا کہ جب وہ بارہویں جماعت کی طالبہ تھیں تو انہیں ٹی سیریز کے ایک گانے میں دوسرے مرکزی کردار کے طور پر کاسٹ کیا گیا تھا تاہم شوٹنگ سے ایک رات قبل انہیں ’موٹی‘ قرار دے کر پراجیکٹ سے نکال دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں مخصوص جسمانی معیار پر پورا اترنے کا دباؤ ایک حقیقت ہے اور انہیں بھی اپنی ظاہری شکل و صورت کے حوالے سے اعتماد بحال کرنے میں وقت لگا۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ اسٹار سدھارتھ ملہوترا کے والد انتقال کر گئے، اداکار نے سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام شیئر کردیا
انہوں نے مزید کہا کہ وہ تقریباً روزانہ انسٹاگرام پر اپنے لباس اور جسمانی ساخت کے باعث جنسی نوعیت کے تبصروں کا نشانہ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں عام ٹاپ پہنوں تو لوگوں کو مسئلہ ہوتا ہے، اسکرٹ پہنوں تو بھی مسئلہ ہوتا ہے اور نازیبا تبصرے کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات مجھے کچھ پوسٹ کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں روزانہ ریپ کی دھمکیاں موصول ہوتی ہیں، جو نہایت خوفناک اور ذہنی طور پر تکلیف دہ تجربہ ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف آن لائن تبصرے نہیں بلکہ ایسے افراد کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو معاشرے میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ میں فرقہ وارانہ اثرات ، اے آر رحمان بول اٹھے
واضح رہے کہ عائشہ خان نے اپنے فنی سفر کا آغاز بطور جونیئر آرٹسٹ کیا اور ’کسوٹی زندگی کی‘ میں کام کر کے ٹیلی وژن کی دنیا میں قدم رکھا، سن 2022 میں انہوں نے تیلگو فلم میں کام کیا اس کے بعد 2023 میں وہ بگ باس 17 میں شرکت کے بعد نمایاں شہرت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
انہوں نے فلم ’دھرندر‘ کے گانے ’شرارت‘ میں بھی پرفارم کیا جبکہ فلم ’کس کس کو پیار کروں 2‘ میں بھی نظر آئیں۔














