امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے آرٹیمس پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے چاند پر پہلی لینڈنگ کا ہدف سنہ 2028 تک مقرر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایسٹرائڈز بڑے پیمانے پر زمین پر تباہی مچا سکتے ہیں، ناسا کا انتباہ
ادارے کا کہنا ہے کہ پروگرام کو سادہ اور مؤثر بنا کر پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔
آرٹیمس منصوبے کے تحت اپریل 2026 میں آرٹیمس تھری مشن شیڈول کے مطابق برقرار رہے گا جبکہ سنہ 2027 کے وسط میں کم زمینی مدار (لو ارتھ آربٹ) میں ایک نمائشی مشن شامل کیا گیا ہے۔ چاند پر عملی لینڈنگ اب سنہ 2028 میں متوقع ہے۔
ناسا نے اعلان کیا ہے کہ ایس ایل ایس بلاک ون راکٹ کو معیاری شکل دی جائے گی اور تاخیر کا شکار اپ گریڈز منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے نے انجینیئرنگ ماہرین کی بھرتی تیز کرنے کے لیے ناسا فورس کے نام سے اقدام بھی شروع کیا ہے تاکہ مشنز کی رفتار بڑھائی جا سکے۔
مزید پڑھیے: ناسا کے خلا باز اب خلا میں اسمارٹ فون استعمال کریں گے
مشن کے دوران خلائی جہازوں کے ملاپ (رینڈیزوؤ) اور ڈاکنگ کے تجربات کیے جائیں گے جن میں نجی کمپنیوں کے لینڈرز مثلاً اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ خلا میں لائف سپورٹ سسٹمز کے عملی تجربات بھی کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے اسحاق مین نے کہا کہ جب آپ ہر 3 سال بعد لانچ کرتے ہیں تو مہارت کمزور پڑ جاتی ہے اور عملی تجربہ متاثر ہوتا ہے۔
We have increased the cadence of Artemis missions.
In 2027, the Artemis III mission will test one or both commercial landers from SpaceX and Blue Origin in low Earth orbit. In 2028, Artemis IV will become the first Artemis lunar landing. pic.twitter.com/X4rwPFK2nI
— NASA (@NASA) March 3, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ باصلاحیت انجینیئرز کو طویل انتظار میں رکھنا درست حکمتِ عملی نہیں۔
آرٹیمس پروگرام کے طویل المدتی اہداف میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنا اور مستقبل میں انسان بردار مشن کو مریخ تک بھیجنا شامل ہے۔ تاہم ایک بڑا چیلنج چین سے مسابقت ہے جو سنہ 2030 تک اپنے پہلے انسان بردار چاند مشن کا ہدف رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: لینڈنگ گیئر خرابی کے باعث ناسا طیارے کی بیلی لینڈنگ، عملہ محفوظ
اسحاق مین کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے جغرافیائی حریف کے مقابلے میں تیزی دکھانا ہوگی تاخیر ختم کرنی ہوگی اور اپنے مقاصد جلد حاصل کرنا ہوں گے۔














