مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث بھارت کی ریاست گجرات کے شہر موربی کی ٹائلز انڈسٹری شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ گیس کی فراہمی متاثر ہونے سے 600 سے زائد فیکٹریاں اور تقریباً 4 لاکھ مزدور خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
موربی دنیا میں سیرامک ٹائلز بنانے کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں 600 سے زیادہ صنعتی یونٹس کام کر رہے ہیں جو تعمیراتی شعبے کے لیے ٹائلز تیار کرتے ہیں۔ ان فیکٹریوں میں 4 لاکھ سے زائد افراد براہِ راست اور بالواسطہ طور پر روزگار سے وابستہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی، عالمی مارکیٹوں میں ہلچل، بھارتی روپے کی قدر بھی گرگئی
ٹائلز بنانے کے لیے پروپین گیس اور قدرتی گیس بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ جنگ کے باعث خلیجی ممالک سے گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ صنعتکاروں کے مطابق اس وقت ان کے پاس پروپین گیس کا ذخیرہ صرف 3 دن اور قدرتی گیس تقریباً ایک ہفتے کے لیے باقی ہے۔ اگر جلد سپلائی بحال نہ ہوئی تو فیکٹریاں بند کرنا پڑ سکتی ہیں۔

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ لمبی چلی تو گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اگر ایندھن مہنگا ہوا تو ٹائلز کی قیمتیں بھی بڑھانا پڑیں گی، جس سے مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔
کاروباری رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صنعت بند ہوئی تو لاکھوں مزدور بے روزگار ہو سکتے ہیں اور مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔
آبنائے ہرمز اور عالمی سپلائی
عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد ایل این جی سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث اس راستے پر جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے، جس سے گیس کی عالمی ترسیل کا نظام بھی دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کا قتل، بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد بے نقاب
ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو گیس پر انحصار کرنے والی صنعتیں مزید مشکلات کا سامنا کریں گی۔













