وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ سعودی عرب پر حملوں کو روکنے کے لیے بات چیت کررہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ فوجی قیادت نے آج کی ان کیمرا بریفنگ میں آگاہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے اور یہ یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں کہ خلیجی ممالک کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا ایرانی جارحیت پر بھرپور جواب دینے کا اعلان
یہ ان کیمرا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بلایا گیا تاکہ پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو پاکستان افغانستان صورتحال، مشرق وسطیٰ میں تنازع اور پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا جا سکے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ اجلاس میں شرکا نے ایران کے حق میں اس بات کی حمایت کی کہ وہ اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرے، تاہم ان کا ماننا تھا کہ تہران کا ردعمل خلیجی ممالک کی طرف نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس میں مختلف ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اجلاس کو بتایا کہ ایران نے یہ یقین دلایا ہے کہ اگر سعودی عرب اس بات کی ضمانت دے کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو وہ سعودی عرب پر حملے نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تبادلے کافی مثبت ہیں اور پاکستان ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطے کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے پہلے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچانے پر مرکوز ہیں۔
انہوں نے خبردار کیاکہ امریکا نے یہ توقع کی ہوگی کہ ایران ابتدائی بڑے حملے کے بعد پیچھے ہٹ جائے گا اور تمام شرائط یکطرفہ طور پر قبول کرے گا، تاہم خطے میں جنگ طویل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو متبادل روٹ سے تیل کی سپلائی، سعودی عرب کی مکمل حمایت
واضح رہے کہ 28 فروری سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد ایران میں ایک ہزار سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔














