نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 0.35 روپے اضافے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کے لیے خوشخبری، نیپرا کا موجودہ صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ
یہ منظوری مارچ سے مئی کے دوران بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں اور کے الیکٹرک کو صارفین سے مجموعی طور پر 8.67 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت دے گی۔
مذکورہ اضافہ مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی کے کوارٹرلی ایڈجسٹمنٹ کے تحت کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم نے نیپرا کے سولر ریگولیشنز پر فوری نوٹس لیتے ہوئے اقدامات کی ہدایت کردی
منگل کو جاری کیے گئے فیصلے میں نیپرا نے تمام صارف زمروں کے لیے فی کلو واٹ گھنٹہ 0.3504 روپے کا یکساں مثبت ایڈجسٹمنٹ منظور کی تاہم لائف لائن صارفین، اضافی کھپت پیکج کے تحت بل شدہ صارفین اور پری پیڈ صارفین اس میں شامل نہیں ہوں گے۔ یہ اضافہ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا۔
نیپرا کے مطابق یہ ایڈجسٹمنٹ بنیادی طور پر کیپیسٹی چارجز، متغیر آپریشن اور مینٹیننس سسٹم چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس، ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن نقصانات پر ایندھن کی قیمت میں تبدیلی اور پچھلے عرصے کی واجبات کی وصولی کے اثرات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
نمزید پڑھیں: ’17 ارب ڈالر سے زیادہ کی بچت کا تخمینہ ہے‘، وزیر توانائی کا نیپرا کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار
سابق واپڈا کی تقسیم کمپنیوں نے اس سہ ماہی کے لیے 10.83 ارب روپے کی وصولی کی منظوری مانگی تھی۔ انہوں نے 24.24 ارب روپے کیپیسٹی چارجز میں طلب کی تھی، لیکن او اینڈ ایم، سسٹم چارجز، مارکیٹ آپریٹر فیس، ٹی اینڈ ڈی نقصانات اور اضافی کھپت پیکج کے منفی اثرات 13.41 ارب روپے کے تھے جس کے بعد نیپرا نے وصولی کی رقم 8.67 ارب روپے تک محدود کر دی۔














