وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور، سینیٹر رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاستدانوں سے ملاقات اور بات چیت سے انکاری ہے، اور یہ رویہ ٹھیک نہیں۔
نجی نیوز چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران، ن لیگ کے سینیٹر رانا ثنا اللّٰہ اور پی ٹی آئی رہنما عون عباس نے موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کررہا ہے، رانا ثنااللہ
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے پہلے ملاقات کروانے کے بعد ہی اجلاس میں شریک ہونے کی ہدایت دی، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی جانب سے سیاستدانوں سے بات کرنے سے انکار تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی سے مبینہ ڈیل کی خبروں کی بھی تردید کی اور کہا کہ اچکزئی کو ہدایت کی گئی تھی کہ قومی حکومت کے حوالے سے تجاویز نہ دیں، ورنہ انہیں خارج کر دیا جائے گا۔ ہم ہمیشہ ہر موقع پر بات چیت کے لیے تیار تھے، لیکن پلواما واقعے پر اجلاس کے لیے ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے باوجود وزیراعظم نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے لیے کوئی ڈیل یا ڈھیل دستیاب نہیں، رہائی فورس ناکام ہوگی اور ان کو نقصان پہنچے گا، رانا ثنااللہ
پروگرام میں شریک عون عباس نے کہا کہ اگر وزیراعظم پارلیمان میں آتے تو ہم شاید اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کی ضرورت ہے تاکہ رہنمائی حاصل ہو سکے، اور وزیراعظم ہاؤس کے بجائے پارلیمان میں ملاقات کرنی چاہیے، کیونکہ موجودہ حکومتی دفتر پر ان کے پاس مینڈیٹ نہیں۔














